وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے ایک اہم سیاسی فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں آئینی اور سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنگی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
اہم حقائق
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت نے یہ قدم صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے محاذ پر صوبائی حکومت کی مبینہ کوتاہیوں کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ایمرجنگی اور گورنر راج کے نفاذ کو سنگین سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور (جنہیں ماخذ میں سی ایم آفریدی بھی کہا گیا ہے) اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس بابت تحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے بھی گورنر راج کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کا مؤقف ڈٹ کر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، یہ فیصلہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان تنازعات میں انسداد دہشت گردی کے معاملے پر تعاون، صوبائی خود مختاری اور اسلام آباد کی جانب پارٹی کے طویل مارچ جیسے معاملات شامل ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنے انتخابی مینڈیٹ کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے، اور صوبائی خود مختاری کو کمزور کرنے یا وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی پیدا کرنے سے امن اور استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس فیصلے کی اہمیت
پاکستان کے عام شہریوں کے لیے یہ گہری ہوتی ہوئی سیاسی کشیدگی براہ راست گورننس، امن و امان اور ملکی استحکام کے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، پی ٹی آئی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے پر اصرار کرنے سے ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے اور جمہوری عمل کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت سیکیورٹی چیلنجز اور انسداد دہشت گردی کی ناگزیر ضرورتوں کا حوالہ دے رہی ہے، تو دوسری طرف صوبائی اپوزیشن ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے صوبائی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور قومی اتحاد کو ناگزیر قرار دے رہی ہے۔

