عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطعِ تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
محبوب کی ادا، شرم اور بے رخی پر داغؔ کی مشہور غزل، جسے مہدی حسن اور غلام علی سمیت کئی گلوکاروں نے گایا۔ ’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘ اردو کا ضرب المثل مصرع ہے۔
1831 میں دہلی میں پیدا ہوئے اور 1905 میں حیدرآباد دکن میں وفات پائی۔ زبان کی صفائی اور روانی میں بے مثال۔ علامہ اقبال نے ابتدا میں اپنی غزلیں اصلاح کے لیے داغؔ کو بھیجیں۔