شعر و ادب · اردو
داغؔ دہلوی
1831 میں دہلی میں پیدا ہوئے اور 1905 میں حیدرآباد دکن میں وفات پائی۔ زبان کی صفائی اور روانی میں بے مثال۔ علامہ اقبال نے ابتدا میں اپنی غزلیں اصلاح کے لیے داغؔ کو بھیجیں۔
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھاغزل · 8 اشعارخطاطی میں دیکھیںخوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںغزل · 9 اشعارخطاطی میں دیکھیں
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
