نیو لینڈز کے میدان پر کگیسو ربادا کی تباہ کن بولنگ اور اسپنر سائمن ہارمر کی شاندار کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں 176 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی، جس کی تفصیلات ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہوئیں۔ آسٹریلیا کی پوری ٹیم 288 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جہاں ربادا نے ابتدائی وکٹیں اڑا کر ٹاپ آرڈر کی کمر توڑ دی جبکہ ہارمر نے محض 16 رنز کے عوض چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، اس شاندار کم بیک کے بعد پروٹیز نے 2-1 سے سیریز اپنے نام کر کے آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ میں بھی خود کو مضبوط پوزیشن میں لے آئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کا پوائنٹس فیصد اس وقت 71.43 ہے، جو نیوزی لینڈ کے 72.22 سے ذرا سا کم ہے، جبکہ نیو لینڈز میں شکست کے بعد آسٹریلیا کا پوائنٹس فیصد کم ہو کر 69.23 رہ گیا ہے۔
اس کڑے مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باوما نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سیریز کو اس صدی کی یادگار ترین ٹیسٹ سیریز میں شمار کیا جائے گا۔ دفاعی چیمپئنز کے لیے یہ فتح ایک بہت بڑا سنگ میل ہے جو اس مشکل بین الاقوامی کیلنڈر میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
پس منظر
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا موجودہ سائیکل مارچ میں اختتام پذیر ہوگا، جس کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست دو ٹیمیں لندن کے اوول گراؤنڈ میں 9 سے 13 جون تک شیڈول فائنل میں مد مقابل آئیں گی۔ اپنا اعزاز بچانے اور لگاتار دوسرے فائنل میں رسائی کے لیے جنوبی افریقہ کو اپنے باقی ماندہ 7 ٹیسٹ میچوں میں سے 5 میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ ان کے آئندہ میچوں میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز، انگلینڈ کے خلاف کرسمس اور نئے سال کی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز، اور فروری میں سری لنکا کے دورے پر دو آؤٹ وے ٹیسٹ شامل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون نے یہ بھی بتایا کہ کوچ اسٹیفن فلیمنگ اور کپتان جو روٹ کی زیرِ قیادت انگلینڈ کی ٹیم ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی حالیہ تاریخ بھی شاندار رہی ہے، جس نے یہاں اپنی آخری چار میں سے تین سیریز جیتی ہیں۔ دوسری طرف، پوائنٹس ٹیبل پر موجود دیگر حریف ٹیمیں بھی آنے والے مقابلوں میں آمنے سامنے ہوں گی، جن میں بھارت اور نیوزی لینڈ کا ٹاکرا شامل ہے، اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کرے گی۔
اس کی کیا اہمیت ہے
دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے پوائنٹس ٹیبل میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اور سخت مقابلہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید ٹیسٹ کرکٹ کس قدر کٹھن ہوتی جا رہی ہے۔ کوالیفیکیشن کا سارا انحصار میچوں کے دوران حاصل ہونے والے پوائنٹس کے تناسب پر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میدان میں کھیلا جانے والا ہر سیشن اور ہر سیریز کا نتیجہ براہِ راست ٹیم کی چیمپئن شپ کی امیدوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اس سفر میں جنوبی افریقہ کا اگلا امتحان رواں ماہ کے آخر میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز کی صورت میں ہوگا، جس کے بعد انہیں انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف بھی میدان میں اترنا ہے۔

