پاناما میں زلزلوں کے پے در پے جھٹکوں نے ہلچل مچا دی ہے، جس کی تصدیق جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔ اکتوبر 2026 میں پیش آنے والے ان زلزلوں کی گہرائی ایک ہی جیسی یعنی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس پر بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں نے گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔
جی ڈی اے سی ایس کے مطابق اس سلسلے کا آغاز 9 اکتوبر 2026 کو ہوا جب یو ٹی سی کے مطابق شام 6 بج کر 37 منٹ پر 5.8 شدت کا زلزلہ آیا جس سے شدید متاثرہ علاقوں میں تقریباً 5 ہزار افراد کی آبادی متاثر ہوئی۔ اس کے بعد اسی روز رات 8 بج کر 25 منٹ پر 6.6 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا جس کی زد میں تقریباً 10 ہزار افراد آئے۔ تیسرا زلزلہ 10 اکتوبر 2026 کو علی الصبح 4 بج کر 14 منٹ پر 6.0 شدت کا ریکارڈ کیا گیا جس سے تقریباً 4 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ اس سلسلے کا چوتھا زلزلہ 12 اکتوبر 2026 کو رات 11 بج کر 20 منٹ پر آیا جس کی شدت 6.1 تھی اور اس سے متاثرہ آبادی کا تخمینہ ایک ہزار افراد لگایا گیا۔
پس منظر
جی ڈی اے سی ایس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان زلزلوں کی شدت 5.8 سے 6.6 کے درمیان تھی، لیکن زلزلے کی شدت، متاثرہ آبادی اور علاقے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ان کے انسانی اثرات کم رہنے کی توقع ہے۔ معیاری حفاظتی طریقہ کار کے تحت امریکی ادارے یو ایس جی ایس (USGS) نے پیجر (PAGER) سسٹم کے ذریعے ان زلزلوں سے ممکنہ جانی نقصان کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ اس حوالے سے گراف میں مسلسل اپ ڈیٹس بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جی ڈی اے سی ایس نے EC-JRC، NEIC، OCHA، DesInventar، WMO، USGS اور INFORM سمیت متعدد بین الاقوامی اور سائنسی اداروں سے حاصل کردہ معلومات اور ریفرنس لنکس بھی یکجا کیے ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان میں عالمی خبروں اور قدرتی آفات کی رپورٹنگ کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ کس طرح جی ڈی اے سی ایس اور یو ایس جی ایس جیسے ادارے شدت کے ساتھ ساتھ زلزلے کی گہرائی اور آبادی کی حساسیت کا جائزہ لے کر دنیا بھر میں زلزلے کے خطرات کا تخمینہ لگاتے ہیں۔
