چلی میں آسمان سے برستی آفت نے زندگی مفلوج کر دی ہے اور پانی کے بڑھتے ہوئے ریلوں نے لوگوں کو محصور کر کے رکھ دیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وسطی چلی کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے فضائی آپریشن کا سہارا لینا پڑا۔
مسلسل بارشوں اور غیر معمولی حد تک زیادہ پانی کے اخراج نے مقامی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ اس صورتحال نے دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامی حالات کو جنم دیا جہاں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔
دریائے ماپوچو میں طغیانی
اس پوری صورتحال کا مرکز دریائے ماپوچو بنا ہے جو مسلسل بارشوں کے باعث اپنے کناروں کو توڑ کر باہر نکل آیا۔ بی بی سی نیوز نے بتایا کہ دریا کا پانی اردگرد کے رہائشی علاقوں میں پھیل گیا، جس کی زد میں آ کر متعدد شہری پھنس گئے اور انتظامیہ کو فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرنا پڑیں۔
زمینی راستے منقطع ہونے اور پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
امدادی سرگرمیاں اور صورتحال کا جائزہ
بارش کا زور کم ہونے کے بعد اب متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ وسطی چلی کے متاثرہ حصوں میں ہنگامی خدمات کے ادارے اب بھی الرٹ ہیں اور حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کی جانب سے متاثرہ اور بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اس واقعے نے خطے میں اچانک اور شدید موسمی تبدیلیوں کے خطرات کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
