پاکستان نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت پر واضح کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اس بات سے جڑا ہے کہ کابل دہشت گردوں کے خلاف عملی قدم اٹھائے اور خواتین پر پابندیوں کا سلسلہ بند کرے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے کونسلر محمد جواد اجمال نے افغان صورتحال پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پر پلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کا صفایا کیا جائے۔
جیو نیوز کے مطابق، 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے پاکستان کے سرحدی صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل کابل پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو پاکستان پر حملے کرنے سے روکے، لیکن افغان حکام نے اب تک اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
پاکستانی سفارت کار نے عالمی برادری کو بھی یاد دلایا کہ وہ افغان مہینوں کی دیکھ بھال اور ایک مستحکم افغانستان کے قیام میں اپنا حصہ ڈالے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ افغان خواتین اور بچیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ اسلامی تعلیمات اور اقدار کے بھی منافی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق، پاکستانی نمائندے نے دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے تاریخی انسانی کردار کا ذکر کیا، اور ساتھ ہی افغان طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 16 مارچ کو پاکستان نے افغانستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں، ڈرون اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بارے میں اس وقت کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا تھا کہ یہ کارروائی آپریشن غضب للحق کے تحت کی گئی۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں پاکستان کی یہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2021 میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مغربی سرحد پر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک محدود عالمی تعاون کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے باعث وقتاً فوقتاً کشیدگی بڑھتی رہی ہے، جو بالآخر 16 مارچ کو پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کی وجہ بنی۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے؟
پاکستان کے عام شہریوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مکینوں کے لیے یہ صورتحال براہ راست روزمرہ کے امن اور سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ میں ہونے والے یہ سفارتی مباحثے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد کو سرحد پار عسکریت اور مہینوں کے انتظام جیسے چیلنجز کا کس طرح سامنا ہے، جو ملک کی داخلی سلامتی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

