کراچی میں نوکری کا فریب دے کر خواتین سے قیمتی سامان لوٹنے والے ایک ملزم کا سامنا جب انھی کی متاثرہ خواتین سے ہوا تو عدالت کے احاطے کا منظر دیکھنے کے قابل تھا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز جب ملزم بابر کو ملیر کے جوڈیشل تفتیش کے لیے پیش کیا گیا تو وہاں موجود خواتین نے غصے میں آ کر اسے تھپڑ مارے اور چپلوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے تقریباً 60 خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر ایک فارم ہاؤس پر بلایا اور ان کے موبائل فون لے کر فرار ہو گیا۔
جیو نیوز کے مطابق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ایک روز قبل ہی حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے متعدد موبائل فونز برآمد کیے جا چکے ہیں۔ پولیس نے مزید برآمدگیوں اور ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم کو ایک دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ سارا واقعہ یکم اکتوبر کو پیش آیا تھا جب ملزم نے کراچی کے علاقے گڈاپ میں ایک فارم ہاؤس پر بڑی تعداد میں خواتین کو ملازمت کی پیشکش کر کے بلایا تھا۔ متاثرہ خواتین جیسے ہی مقررہ مقام پر پہنچیں، ملزم نے کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ان کے موبائل فون اپنے پاس رکھوائے اور موقع سے فرار ہو گیا۔ منگل کے روز جب یہی ملزم قانونی کارروائی کے لیے عدالت پہنچا تو انصاف کی منتظر متاثرہ خواتین کا غصہ پھٹ پڑا اور انہوں نے احاطہ عدالت میں ہی اپنا غصہ نکال دیا۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نوعیت کے واقعات ان سنگین خطرات اور مجبوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں جن کا سامنا روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے افراد کو فریب کاروں کے ہاتھوں کرنا پڑتا ہے۔ عدالت کے احاطے میں ہونے والا یہ عوامی احتجاج اس بات کا غماز ہے کہ شہریوں میں کس قدر شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے جو انصاف کے حصول کے لیے قانونی راستوں کا رخ کرتے ہیں۔
