عالمی منڈی میں تیل کی تجارت کے دوران آج ایک کشیدہ خاموشی چھائی رہی، جہاں سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بدستور منڈلا رہے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق ایشیائی تجارت کے آغاز میں برینٹ خام تیل کے سودے 21 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 112.96 ڈالر فی بیرل پر ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ 27 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے بعد 98.12 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔

اس کے علاوہ، ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تیسری سٹاف لیول رپورٹ میں مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے دوران پاکستان کے لیے متوقع مالیاتی آمد میں سعودی آئل فیسلٹی کو شامل نہیں کیا ہے۔

اہم حقائق

  • ایکسپریس ٹریبون کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 21 سینٹ کمی کے ساتھ 112.96 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 27 سینٹ کمی کے بعد 98.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
  • ایکسپریس ٹریبون نے رپورٹ کیا کہ آئی ایم ایف نے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے لیے پاکستان کی متوقع رقوم میں سے سعودی آئل فیسلٹی کو خارج کر دیا ہے۔
  • رائٹرز کے مطابق سعودی آرامکو نے بحرین کے قریب خلیج میں دھہران میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ لڑائی میں شدت آ گئی تھی۔
  • رائٹرز کے مطابق لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے سربراہ نے بتایا کہ حمادہ اور طہارہ کے تیل کے شعبوں سے زاویہ بندرگاہ تک جانے والی پائپ لائن کا والو بند کر دیا گیا ہے، جس سے پیداوار میں کمی آئی ہے۔
  • رائٹرز نے اطلاع دی کہ صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات کے بعد روس نے اگلے ماہ یوکرین کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

پس منظر

توانائی کی سپلائی میں تعطل کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا جو پانچ ماہ کی بلند ترین سطح تھی۔ یہ کشیدگی یمنی حکومت کی حامی سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جاری جھڑپوں کی وجہ سے ہے، جو باب المندب کے سمندری گزرگاہ کی طرف حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سے جاری ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ڈبلیو ٹی آئی کا دو ہفتے کا جاری فاتحانہ سلسلہ ٹوٹنے کا خدشہ تھا، جبکہ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے بھی اضافے کے ساتھ بند ہونے کی تیاری کر رہا تھا اور اس نے 4 مئی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر سکون حاصل کیا تھا۔

عالمی توانائی کی مارکیٹوں پر اضافی دباؤ 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے روسی توانائی کو عالمی مارکیٹوں سے باہر رکھنے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق روس 2025 میں امریکہ اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔

اس کی اہمیت کیا ہے

پاکستان کے عام قارئین کے لیے بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ادارہ جاتی مالیاتی تخمینوں میں تبدیلیاں—جیسے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالیاتی آمد میں سعودی آئل فیسلٹی کا اخراج—ملک کا عالمی توانائی کی منڈیوں اور کثیر جہتی مالیاتی منصوبہ بندی کے ساتھ گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبون کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں جیسی گھریلو ایندھن کی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح عالمی منڈی کی تبدیلیاں مقامی معاشی حقائق میں تبدیل ہوتی ہیں۔