انگلینڈ کی رگبی ٹیم کو اہم میچ سے بالکل پہلے کھلاڑیوں کی انجریز نے شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، جس کے بعد مینجمنٹ کو مجبورا فوری تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ بی بی سی سپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، الیکس مچل اور آرچی میک پارلینڈ کے زخمی ہونے کے بعد سکرم ہالف بین سپینسر اور ہیری رینڈل کو ٹیم میں بلا لیا گیا ہے۔

بی بی سی سپورٹ کے مطابق، الیکس مچل کو گلوسیسٹر کے خلاف میچ کے دوران ہیمسٹرنگ کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 21 سالہ نوجوان کھلاڑی میک پارلینڈ ٹریننگ کیمپ میں پنڈلی کی انجری کا شکار ہو گئے۔ مچل کا اس سال یہ تیسرا موقع ہے کہ وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے ہیں، اور ان کی مزید آرام کی مدت کا اندازہ لگانے کے لیے سکین کرایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب لیسسٹر کے جیک فان پورٹ ویلیٹ کو پہلی ترجیح کے طور پر سکرم ہالف کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔

بی بی سی سپورٹ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، انگلینڈ کو فلائی ہالف کے پوزیشن میں بھی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ بنیادی کھلاڑی فن سمتھ پنڈلی کی تکلیف میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے مارکس سمتھ اور جارج فورڈ متبادل کے طور پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہکر کی پوزیشن پر ساراکینز کے تھیو ڈین نے سکواڈ میں تیسری جگہ حاصل کر لی ہے، انہوں نے باتھ کے کیپو توئپولوٹو کی جگہ لی ہے جو ٹریننگ کیمپ کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔

گلوسیسٹر کے سینٹر سیب اٹکنسن اور ایکسیٹر کے ونگر ایمانوئل فیئی وبوسو بھی انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آ گئے ہیں، جبکہ مڈفیلڈ کے لیے ول جوزف اور جو مارچنٹ کو منتخب کیا گیا ہے۔ تاہم باتھ کے سینٹر جوڑے اولی لارنس اور میکس اوجوموہ کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

پس منظر

بی بی سی سپورٹ کے مطابق، سکواڈ میں یہ تبدیلیاں نیشنز چیمپئن شپ کے میچوں کی تیاریوں کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔ ٹیم کو اتوار کے روز آسٹریلیا کا سامنا کرنا ہے، جس کے بعد نومبر میں جاپان اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچز شیڈول ہیں، اور اس سلسلے کا اختتام پلے آف فائنلز کے ہفتے کے آخر میں جنوبی نصف کرہ کی ایک نامعلوم ٹیم کے خلاف چوتھے ٹیسٹ کے ساتھ ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے وہ کھیلوں کے شائقین جو انٹرنیشنل رگبی یونین کو فالو کرتے ہیں، جانتے ہیں کہ اعلیٰ سطح کے مسابقتی کھیلوں میں ٹیم کی گہرائی اور کھلاڑیوں کی فٹنس کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اہم کھلاڑیوں کا زخمی ہونا اکثر ٹیم کی حکمت عملی کو یکسر بدل دیتا ہے اور ریزرو کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا غیر متوقع موقع فراہم کرتا ہے۔