دارالحکومت کا ایک پرسکون سیاسی مرکز اس وقت بلدیاتی تنازع کی زد میں آ گیا ہے جب میونسپل حکام نے مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ جیو نیوز اور دی نیوز کی رپورٹس کے مطابق، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ اور اس سے جڑے دو مدارس کو تین الگ الگ نوٹس جاری کیے ہیں۔
یہ نوٹس 29 اکتوبر سے 30 اکتوبر کے دوران جاری کیے گئے جن میں 15 روز کے اندر غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وارننگ دی گئی ہے کہ اگر حکم کی تعمیل نہ کی گئی تو سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 کے تحت عمارتوں کو سیل کیا جا سکتا ہے، ڈھانچے گرائے جا سکتے ہیں اور پراپرٹی الاٹمنٹ منسوخ کی جا سکتی ہے۔ دی نیوز کے مطابق، رہائش گاہ کے مالک کو خاص طور پر سیٹ بیک ایریا میں غیر قانونی تعمیرات کے ساتھ ساتھ سرکاری زمین پر نصب کیے گئے گارڈ پوسٹس اور جنریٹرز کو ہٹانے کا کہا گیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق، مولانا اسجد محمود نے ایکس پر اپنے ردعمل میں بتایا کہ سی ڈی اے نے سیٹ بیک ایریا میں ایک اضافی کچن، ایک گارڈ کیبن اور بیرونی جنریٹر پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام ادارے ایک شخص کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔
پس منظر
ماخذ مواد کے مطابق، یہ تازہ نوٹس اسلام آباد بھر میں سی ڈی اے کی اس وسیع انسدادِ تجاوزات مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد عوامی اور سرکاری زمینوں کو غیر قانونی تعمیرات اور ضابطہ شکنی سے پاک کرنا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مہم قابلِ اطلاق قوانین اور بلڈنگ ضوابط کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس میں مقررہ اصولوں کے تحت اہل مقدمات کو باقاعدہ بنانے یا منظوری دینے کی دفعات بھی شامل ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کی یہ رہائش گاہ تاریخی طور پر سیاسی مشاورت کا ایک اہم مرکز رہی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت مختلف رہنما قومی امور پر تبادلہ خیال کے لیے آتے رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بھی اس پراپرٹی پر غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
اس معاملے کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان کے عام شہریوں اور مبصرین کے لیے یہ پیش رفت دارالحکومت میں بلدیاتی نفاذ اور اعلیٰ سطحی سیاسی حرکیات کے سنگم کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں سی ڈی اے اس کارروائی کو موجودہ بلڈنگ کنٹرول کے ضوابط کے تحت معمول کی انسدادِ تجاوزات کارروائیاں قرار دیتا ہے، وہیں سیاسی قیادت اس کی ٹائمنگ اور عمل درآمد کو حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

