شعر و ادب · اردو
میر تقی میرؔ
1723 میں آگرہ میں پیدا ہوئے اور 1810 میں لکھنؤ میں وفات پائی۔ اُنہیں ’خدائے سخن‘ کہا جاتا ہے۔ اُن کی غزل میں سادگی، درد اور گداز ایسا ہے کہ صدیوں بعد بھی تازہ لگتا ہے۔
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےغزل · 8 اشعارخطاطی میں دیکھیںہستی اپنی حباب کی سی ہےغزل · 6 اشعارخطاطی میں دیکھیں
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشمِ دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
