شعر و ادب · اردو
علامہ محمد اقبال
9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 1938 کو لاہور میں انتقال کیا۔ اُن کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی، امید اور بیداری کا پیغام عام کیا، اور اُنہیں پاکستان کے تصور کا خالق مانا جاتا ہے۔ یہاں اُن کے پہلے اردو مجموعے ’بانگِ درا‘ (1924) سے انتخاب پیش ہے۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
