یمن کے ساحلی علاقوں میں توپ خانے کی گرج اور سنگین جھڑپوں کے ساتھ تنازع ایک نئے اور کشیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے میدانِ جنگ میں اہم پیشرفت کی اطلاع دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یمنی سرکاری فورسز کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النضیلی نے بتایا کہ "فجرِ یمن" کے نام سے چلائے جانے والے تقریباً 2,000 ٹارگٹڈ آپریشنز میں کم از کم 1,150 حوثی جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ نے یمن سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ان زمینی کارروائیوں کے دوران حوثیوں کے متعدد گولہ بارود کے ڈپو اور جنگی گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ سرکاری فورسز بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

اہم پیشرفت

الجزیرہ کے مطابق، یہ تازہ کشیدگی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور پروازیں منسوخ کرنا پڑی تھیں۔ وائٹ ہاؤس میں جب صحافیوں نے اس معاملے میں ممکنہ امریکی شمولیت سے متعلق سوال کیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جلد اس پر کوئی فیصلہ کریں گے۔

الجزیرہ نے بتایا کہ اگرچہ حوثیوں نے ریاض ائیرپورٹ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم اس گروپ نے ایوی ایشن کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ سعودی فضائی حدود سے گریز کریں، اور اس کے علاوہ کسی بھی طیارے کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس تنازع میں ایک طرف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ہے جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، اور دوسری طرف ایران کے حامی حوثی جنگجو ہیں جو 2014 سے صنعا اور شمال مغربی یمن کے حصوں پر قابض ہیں۔ موجودہ لڑائی باب المندب کے اہم عالمی تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے یمن کے جنوبی اسٹریٹجک شہروں مخا اور ذباب کے گرد مرکوز ہے۔

رائل یونین سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ فیلو براع شیبان نے الجزیرہ کو بتایا کہ صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی بھی علاقائی یا مقامی ثالثی کے بغیر تشدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

الجزیرہ کی رپورٹنگ کے مطابق، اس پھیلتے ہوئے تنازع کے بین الاقوامی فریقین پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نیٹ ورک نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے دی گئی وارننگز میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کا معاملہ بھی شامل ہے، جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر شرکت ہوئی تو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں پاکستان کے پرچم والے بحری جہازوں کے خلاف جوابی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے حوالے سے سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالثی کی کوششوں کے فقدان کی وجہ سے آنے والے دنوں میں متعدد محاذوں پر تشدد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔