مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فوجی چوکی پر ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں پانچ اسرائیلی زخمی اور دو مبینہ فلسطینی حملہ آور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ خونریز واقعہ شہر الخلیل (ہیبرون) کے داخلی راستے پر پیش آیا، جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو مسلح افراد نے ایک گاڑی سے نکل کر فوجیوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے گولہ بارود کی ایک بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حملہ آوروں کا ارادہ چوکی کے قریب روٹ 35 پر کسی بڑے حملے کو انجام دینے کا تھا۔

اہم حقائق

  • بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں ہونے والی فائرنگ کے اس واقعے میں پانچ اسرائیلی زخمی جبکہ دو مشتبہ فلسطینی حملہ آور ہلاک ہو گئے۔
  • بی بی سی کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو مغربی کنارے میں مکمل لاک ڈاؤن کی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے بڑی تعداد میں گولہ بارود ملا ہے اور ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
  • بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ نے حملے کے مقام کے قریب واقع فلسطینی عمارتوں کو گرانے کا حکم دیا ہے۔
  • اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت کم از کم 96 فلسطینی اور چار اسرائیلی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ سالانہ زیتون کی کاشت کے دوران انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانا بھی ہے۔ یہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب چار روز بعد اسرائیل میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انتخابات کے باعث پیر اور منگل کو ویسٹ بینک کو پہلے ہی بند کیا جانا تھا، جس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم کے صبح کے تمام پروگرام منسوخ کر دیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں 96 فلسطینی جبکہ فلسطینیوں کے حملوں میں چار اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے مشرق وسطیٰ کی صورتحال گہرے انسانی اور سفارتی اثرات کی حامل ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ لاک ڈاؤن خطے میں جاری اس عدم استحکام کو ظاہر کرتے ہیں جس پر عالمی سطح پر شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی ضابطوں کی پابندی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

اسرائیلی فورسز نے مشتبہ حملہ آوروں کے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز سے مغربی کنارے میں مکمل لاک ڈاؤن اور طے شدہ انتخابی پابندیوں کے نفاذ کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔