جب کوئی رہنما یہ کہے کہ ایک پرانا سیاسی رشتہ اپنے اراکین کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کر رہا، تو ریاست کی بنیادوں پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ویلز کے وزیرِ اعلیٰ رون اپ ایور ورتھ نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ ان کے خطے کو برطانیہ سے ایک نئے سمجھوتہ کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام کارآمد نہیں رہا۔
الجزیرہ کے مطابق، رون اپ ایور ورتھ نے برطانوی وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر ویلز کو مزید اختیارات منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس منتقلی سے ویلز کی حکومت کو پولیسنگ، نظامِ عدل، ریل نیٹ ورک اور قدرتی وسائل پر کنٹرول مل سکے گا تاکہ اس خرابی کو دور کیا جا سکے جسے انہوں نے تاریخی ناانصافی قرار دیا۔
الجزیرہ نے بتایا کہ ان کی مرکز بائیں بازو کی ویلش قوم پرست جماعت 'پلائیڈ کیمرو' نے مئی میں اقتدار سنبھالا تھا، جس نے ویلز میں لیبر پارٹی کی ایک صدی سے زیادہ طویل اجارہ داری کا خاتمہ کیا۔ اپنے عہدے کے 4 ماہ بعد انہوں نے اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں خود ارادیت کے حق کا اعلان کیا گیا اور برطانوی پارلیمنٹ کو خبردار کیا گیا کہ اس کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ اس معاہدے کا مقصد برطانیہ کو توڑنا نہیں بلکہ ویلز کو آزادی کی طرف سفر میں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دینا ہے، حالانکہ وہ اس پارلیمنٹ کے دوران ریفرنڈم کے لیے زور نہیں ڈالیں گے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق ویلز کا سیاسی منظرنامہ اس وقت تبدیل ہوا جب 'پلائیڈ کیمرو' نے مئی میں اقتدار سنبھالا اور لیبر پارٹی کی صد سالہ حکمرانی کا خاتمہ کیا۔ اس سیاسی تبدیلی کے بعد ویلز کے وزیرِ اعلیٰ نے اپنے عہدے کے صرف 4 ماہ بعد اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں ان کے حقِ خود ارادیت کا اعلان کیا گیا اور برطانوی پارلیمنٹ کو تنبیہ کی گئی کہ اس کا وقت اب تمام ہو رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
عالمی نظامِ حکومت اور امورِ عامہ پر نظر رکھنے والے مبصرین کے لیے علاقائی خود مختاری، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور مرکزی حکومت اور اکائیوں کے درمیان آئینی توازن پر جاری یہ بحثیں دنیا بھر میں وفاقیت اور خود ارادیت کے انمٹ تقاضوں کو اجاگر کرتی ہیں۔

