جب ناروے کے کلب وائکنگ ایف کے نے گزشتہ برس 34 سال بعد اپنا پہلا ٹائٹل جیتا تھا، تو شاید ہی کسی نے سوچا تھا کہ وہ اس طرح یورپ کے میدانوں میں تہلکہ مچا دیں گے۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، استون ولا کے خلاف میچ سے پہلے اس ٹیم نے بائرن میوک کے خلاف ایک سنسنی خیز مقابلے میں 3-3 سے ڈرا کھیلا، جہاں پہلے ہاف میں وائکنگ کی ٹیم 2-0 سے آگے تھی اور آخری منٹ میں گول اسکور کر کے پوائنٹ حاصل کیا۔
ناروے کے چینل ٹی وی 2 کے مطابق، بائرن کے خلاف میچ کے بعد ٹیم کے کپتان زلاٹکو ٹریپک نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید 90 منٹ بھی کھیل سکتے تھے اور 34 سال کے طویل انتظار کے بعد یہ لمحہ ان کے لیے انتہائی فخر کا باعث ہے۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، وائکنگ کی اس شاندار کامیابی کے پات محرک دو مشترکہ ہیڈ کوچز مورٹن جینسن اور بیارتے لوندے آارشہیم ہیں، جو جدید فٹ بال میں ایک نایاب مثال ہیں۔ دونوں نے 2021 میں ٹیم کی کمان سنبھالی، پچھلے سال ٹیم کو چیمپئن بنایا اور اس وقت بھی وہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔
بی بی سی کے یورو لیگز شو اور دی گارڈین کو دیے گئے انٹرویوز میں آارشہیم نے بتایا کہ وہ بچپن سے وائکنگ کے فین رہے ہیں اور کلب کے لیے کھیل چکے ہیں، اس لیے یہ ان کے لیے محض ایک ٹیم سے بڑھ کر ہے۔ جینسن کا کہنا تھا کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر چلنے سے ٹیمیں بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں نہ کہ دوسروں کی نقل کرنے سے۔
یہ سیزن 2005-06 کے یوئیفا کپ کے بعد پہلا موقع ہے جب وائکنگ یورپ کے کسی گروپ مرحلے میں پہنچی ہے۔ آارشہیم نے چیمپئنز لیگ تک رسائی کو "تقریباً ناقابل یقین" قرار دیا، جبکہ جینسن نے اس سیزن کے میچوں کے شیڈول کو—جس میں ولا، اٹلیٹکو میڈرڈ، ناپولی اور بائرن کے خلاف مقابلے شامل ہیں—"مکمل دعوت" سے تشبیہ دی۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے وائکنگ ایف کے کا یہ سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حکمت عملی کے تسلسل، انوکھی قیادت اور گراس روٹس کی سطح پر جڑے رہنے سے کھیلوں کی دنیا میں کیسی بڑی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ گھریلو سطح پر ٹائٹل کا طقہ ختم کرنے سے لے کر یورپ کے صف اول کے کلبوں کا مقابلہ کرنے تک کا یہ سفر فٹ بال کی غیر متوقع اور پرجوش جادوگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

