امریکی وسطی انتخابات کے نتائج نے ڈیموکریٹک پارٹی کو بڑی کامیابی تو دلوا دی ہے لیکن سینیٹ کی دو اہم نشستوں پر اب بھی 'سانسیں روک دینے والا' مقابلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ ڈیموکریٹس نے پارٹی رہنما حکیم جیفریز کے بقول 'امریکی سونامی' کے ذریعے دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے، لیکن مسیسیپی اور الاسکا کے حتمی نتائج تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

الجزیرہ کے مطابق، 3 جنوری سے شروع ہونے والی 120 ویں کانگریس میں ڈیموکریٹس 100 رکنی سینیٹ میں کم از کم 54 نشستوں کے ساتھ داخل ہوں گے۔ تاہم، مسیسیپی اور الاسکا کے نتائج یہ طے کریں گے کہ آیا وہ 60 نشستوں کا وہ ہدف حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں، جو انہیں اپوزیشن کی جانب سے قانون سازی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے (فلی بسٹر) سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

معرکے کے اہم حقائق

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مسیسیپی میں ریپبلکن امیدوار سنڈی ہائیڈ سمتھ اور ڈیموکریٹک حریف سکاٹ کولم کے درمیان مقابلہ اس قدر سخت ہے کہ ابھی تک کسی کی جیت کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں امیدواروں کو تقریباً 49 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

الجزیرہ نے بتایا ہے کہ 96 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک سکاٹ کولم کو 1,138 ووٹوں کی معمولی برتری حاصل تھی، جبکہ انتخابی عملہ اب بھی ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے اور دیگر عارضی ووٹوں کی جانچ پڑتال کر رہا ہے۔ مسیسیپی کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیکل واٹسن کا کہنا ہے کہ کاؤنٹیز کے پاس نتائج کی تصدیق کے لیے 13 نومبر تک کا وقت ہے، کیونکہ تقریباً 3,600 پوسٹل بیلٹس اور نامعلوم تعداد میں 'ایفی ڈیوٹ بیلٹس' کی گنتی ابھی باقی ہے۔

مسیسیپی کی سیاسی تاریخ

تاریخی طور پر مسیسیپی کو ریپبلکن پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اس ریاست نے آخری بار 1976 میں کسی ڈیموکریٹ صدر کو ووٹ دیا تھا، جبکہ 2015 کے بعد سے یہاں کوئی ڈیموکریٹ امیدوار ریاستی سطح پر منتخب نہیں ہو سکا۔ اس پس منظر کے باوجود، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی اتحادی سنڈی ہائیڈ سمتھ اور سکاٹ کولم کے درمیان یہ قریبی مقابلہ سیاسی ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ نتائج میں تاخیر کی بڑی وجہ ان عارضی ووٹوں کی جانچ ہے جو ان ووٹرز کی جانب سے ڈالے گئے جن کی اہلیت اس وقت غیر یقینی تھی۔

یہ نتائج کیوں اہم ہیں؟

بین الاقوامی سطح پر انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے ماہرین کے لیے مسیسیپی اور الاسکا کے یہ نتائج امریکی وفاقی انتخابی نظام کی پیچیدگیوں اور شفافیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں نشستوں کا معمولی فرق بھی حکمران جماعت کے لیے بڑی قومی پالیسیوں اور قانون سازی کی راہ ہموار کرنے یا اس میں رکاوٹ بننے کی طاقت رکھتا ہے۔

مقامی انتخابی حکام کے پاس 13 نومبر تک کا وقت ہے کہ وہ تمام قانونی بیلٹس کی گنتی مکمل کر کے حتمی نتائج سیکرٹری آف سٹیٹ کے دفتر کو جمع کروا دیں۔