امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسطی انتخابات کے قریب آتے ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولنگ کے عمل پر وفاقی امیگریشن حکام کے کردار پر گہری نظر رکھ رکھی ہے، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے عملے میں 120 فیصد نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر وکلا اور فلاحی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ اس بااختیار ادارے کی بڑھتی ہوئی موجودگی ووٹرز کی ٹرن آؤٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ اور امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) جیسے اداروں نے یہ خدشات ظاہر کیے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ICE کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے جس سے ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل سکے۔ ستمبر میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے زیراہتمام ہونے والے ایک قومی سروے کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ 40 فیصد جواب دہندگان کا یہ خیال تھا کہ انتخابات کے دن پولنگ اسٹیشنز کے قریب ICE کے اہلکار موجود ہو سکتے ہیں۔
پس منظر
سن 2003 میں قائم ہونے والا اور وزارتِ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت کام کرنے والا ادارہ ICE صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں نمایاں طور پر پھیلا ہے، اور جنوری تک اس ادارے میں 22,000 افسران اور اہلکار موجود تھے، یہ بات الجزیرہ کی رپورٹ میں بتائی گئی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ بجٹ پیکجز نے ICE کو امریکہ کا سب سے زیادہ فنڈ حاصل کرنے والا وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ بنا دیا ہے۔ تاہم، ادارے کو اپنے جارحانہ طریقوں اور فوری بھرتیوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ الجزیرہ نے واضح کیا کہ انتظامیہ کے دوسرے دور کے آغاز سے لے کر اب تک امیگریشن اہلکار کم از کم 25 فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہے ہیں جن میں سے 6 جان لیوا ثابت ہوئے، جبکہ جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 60 افراد ICE کی حراست میں جان بحق ہو چکے ہیں۔
وفاقی ضوابط کے تحت، جن کا حوالہ الجزیرہ نے 1865 کے ایک قانون کی صورت میں دیا ہے، پولنگ اسٹیشنز پر مسلح وفاقی اہلکاروں کی موجودگی پر واضح پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ فوجی مداخلت اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کے خلاف بھی قوانین موجود ہیں۔ ان تمام قانونی حفاظتی اقدامات کے باوجود، الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی انتخابات کے دوران ان قواعد کا امتحان ہو چکا ہے اور سان انتونیو، ٹیکساس اور وینچورا کاؤنٹی، کیلیفورنیا میں اہلکاروں کی جانب سے معمول کی کارروائیاں نوٹ کی گئی ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
پاکستان اور دنیا بھر سے عالمی امور پر نظر رکھنے والے عام قارئین کے لیے، بڑی جمہوریتوں میں انتخابی شفافیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے سے جڑے یہ معاملات انتظامی اور نظام کے اندرونی چیلنجز کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ جاری بحث اس نازک توازن کو اجاگر کرتی ہے جو ملکی سلامتی کے نفاذ اور شہریوں کے اس بنیادی حق کے درمیان قائم رہنا چاہیے کہ وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے جمہوری عمل میں حصہ لے سکیں۔

