جب گزشتہ ماہ امریکہ کے پانچ بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے اچانک وائٹ ہاؤس کی کوریج معطل کی تو اس نے صحافت اور حکومت کے درمیان ایک غیر معمولی محاذ آرائی کو جنم دے دیا۔ الجیرہ کی رپورٹ اور اے پی و رائلٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف نے اب اس بات کا تعین کرنے کے لیے ایک انکوائری شروع کر دی ہے کہ آیا میڈیا بلیک آؤٹ نے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
محکمہ انصاف کی ترجمان ایملی کوونگٹن نے الجیرہ کو بتایا کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا نیٹ ورکس کا مشترکہ فیصلہ شرمین ایکٹ کے تحت کسی بائیکاٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ جن نشریاتی اداروں کو اس جانچ کا سامنا ہے ان میں اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز شامل ہیں، جو وائٹ ہاؤس کے بنیادی ٹیلی ویژن پول کا حصہ ہیں۔
پس منظر
الجیرہ کے مطابق ٹی وی نیٹ ورکس نے اس وقت صدارتی کوریج معطل کی جب انتظامیہ نے 19 ستمبر کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹکو کے نامہ نگاروں کے پریس کارڈز منسوخ کر دیے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر کی کوریج کرنا ایک استحقاق ہے، کوئی حق نہیں۔
پریس کارڈز کی منسوخی کے جواب میں متاثرہ خبر رساں اداروں نے ایک مقدمہ دائر کیا جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ پابندی پہلی آئینی ترمیم کی خلاف ورزی اور ان کی کوریج کا انتقام ہے۔ اس کے ساتھ ہی فاکس نیوز سمیت بنیادی ٹیلی ویژن پول نے اظہار یکجہتی کے طور پر کوریج معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے اداروں کو متبادل فوٹیج دینے سے انکار کر دیا۔ یہ تنازع اس وقت ختم ہوا جب امریکی ضلعی جج ٹموتی کیلی نے پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 24 ستمبر کو انتظامیہ کو پریس کارڈز بحال کرنے کا حکم دیا۔
اس معاملے کی اہمیت کیا ہے
بین الاقوامی میڈیا کے حالات کا جائزہ لینے والوں کے لیے یہ قانونی جنگ ریاستی اختیار اور آزاد پریس کے درمیان نازک توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرف انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی صوابدیدی ہے، تو دوسری طرف نشریاتی ادارے اجتماعی ردعمل کو پریس کی آزادی کا دفاع قرار دیتے ہیں۔ محکمہ انصاف کے اس تازہ اقدام نے میڈیا کارپوریشنز پر شدید قانونی اور مالی دباؤ ڈال دیا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تجارتی حریف حکومتوں کے ساتھ تنازعات کے دوران ضابطہ کار کی جانچ پڑتال کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔

