امریکہ میں کانگریس کے کنٹرول کے حصول کے لیے ہونے والے وسطی انتخابات سے پہلے ارلی ووٹنگ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور اب تک 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد امریکی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، پولنگ کے دن سے چند روز قبل اتنی بڑی تعداد میں ارلی ووٹنگ کا ریکارڈ ہونا پچھلے انتخابی چکروں کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
الجزیرہ کے ذریعے حوالہ دیے گئے رئیل کلیئر پولنگ کے تازہ ترین قومی انتخابی اوسط کے مطابق، ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 8.2 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، جہاں ڈیموکریٹس 51.4 فیصد اور ریپبلکنز 43.2 فیصد پر کھڑے ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک اور اکانومسٹ/یو گوو سروے کے مطابق 44 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا خیال ہے کہ ایوان نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہوگا، جبکہ 31 فیصد کی رائے میں ریپبلکنز اسے برقرار رکھیں گے۔ سینیٹ کے حوالے سے مقابلہ مزید سخت ہے، جہاں 39 فیصد ووٹرز کو ڈیموکریٹک اکثریت کی توقع ہے اور 36 فیصد ریپبلکن اکثریت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
ورجینیا یونیورسٹی سینٹر فار پولیٹکس سے وابستہ کائل کونڈک نے الجزیرہ کو بتایا کہ قومی جائزوں میں ڈیموکریٹس کی مضبوط برتری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایوان نمائندگان کے ہاتھ سے نکلنے کا قوی امکان ہے، جبکہ سینیٹ کا معاملہ تاحال زیادہ سخت اور غیر یقینی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ہونے والے حتمی انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے سلسلے کو کینساس اور آئیووا میں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں آخری مرحلے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
پس منظر
ایسوسی ایروئٹرز پریس کے ایک تجزیے کے مطابق، 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ارلی ووٹوں کی یہ تعداد 2022 کے وسطی انتخابات کے اسی مرحلے کے مقابلے میں تقریباً 1 کروڑ تھی زیادہ ہے۔ سخت مقابلے والی سینیٹ نشستوں والے ریاستوں میں ووٹنگ کا یہ رجحان نمایاں طور پر بلند رہا۔ الجزیرہ نے بتایا کہ ٹیکساس میں بدھ تک 63 لاکھ سے زائد ارلی ووٹ ڈالے گئے جو کہ 2022 کے 42 لاکھ کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ اضافہ ہے۔ ہیوسٹن سے الجزیرہ کی رپورٹنگ میں ارلی ووٹنگ کے اختتام پر ووٹرز کی مسلسل آمد کا ذکر کیا گیا۔ جارجیا میں جمعہ کی صبح تک 25 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ کیے گئے جو 2022 کی ارلی ووٹنگ کے 23 لاکھ سے زیادہ ہیں، جہاں اٹلانٹا میں طویل قطاریں اور نوجوان ووٹرز کی بڑھتی ہوئی شرکت دیکھی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پر مبصرین اور قارئین کے لیے، امریکہ کے قانون ساز اداروں میں طاقت کے توازن کی تبدیلیاں اکثر وسیع تر خارجی پالیسی کے رخ، معاشی امداد کے فیصلوں اور عالمی سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ووٹرز کی اتنی بڑی تعداد اور سخت پیش گوئیاں موجودہ امریکی جمہوریت کو تقسیم کرنے والی گہری سیاسی صف بندی اور شدید عوامی بیداری کی عکاسی کرتی ہیں، ایسے نتائج جو بین الاقوامی منڈیوں اور خارجی تعلقات پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

