امریکہ میں اہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک اچانک قانونی قدم اٹھائے جانے کے نتیجے میں الاسکا کا انتخابی مقابلہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف نے الاسکا کے سخت مقابلے والے سینیٹ الیکشن کے نتائج کی تصدیق کو رکوانے کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس سے انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت کے بارے میں فوری طور پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کی قانونی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاست کے موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان، جو دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں، کے نام سے ملتا جلتا نام رکھنے والے ایک آزاد امیدوار کو بیلٹ پیپر پر اس مقصد کے لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ ووٹرز کو جان بوجھ کر گمراہ کیا جا سکے۔ الجزیرہ کے مطابق محکمہ انصاف نے ایک وفاقی جج سے استدعا کی ہے کہ نتائج کی تصدیق میں تاخیر کی جائے تاکہ حکام اس بات کی تحقیقات کر سکیں کہ آیا آزاد امیدوار ڈینیل جے سلیوان کو ملنے والے ووٹ دراصل سینیٹر سلیوان کے لیے تھے یا نہیں۔

فلوریڈا کے شہر فورٹ مائرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کی ذمے داری کھلے عام اپنے سر لے لی اور الجزیرہ کے مطابق کہا کہ "میں وہ شخص ہوں جس نے کہا کہ 'یہ کرو'۔"

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق یہ مقدمہ جمعرات کو دائر کیا گیا، جو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے محض ایک ہفتے سے کچھ زیادہ مدت پہلے کی بات ہے۔ قانونی دستاویز میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ آزاد امیدوار کی موجودگی کی وجہ سے ووٹرز کے الجھنے کا قوی امکان ہے، جس سے الاسکا کے عوام کی مرضی مسخ ہو سکتی ہے اور ایک ایسا انتخابی عمل سامنے آ سکتا ہے جو شفافیت سے عاری ہو۔

یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹس اور ووٹرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی جانب سے وسیع تر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے میں جب ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کا سامنا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ادارے نے بتایا کہ محکمہ انصاف نے حال ہی میں ڈیموکریٹک ناقدین کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں ورجینیا کی سینیٹر ایل لوئیس لوکاس پر عوامی بدعنوانی کے کیس میں فرد جرم عائد کرنا اور نمائندہ الہان عمر کے خلاف امیگرافی فراڈ کی تحقیقات شروع کرنا شامل ہے۔ دونوں قانون ساز یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف تحقیقات سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایجنسی انتخابی نتائج کی تصدیق کو اس وقت تک نہیں روکے گی جب تک کہ انتہائی حالات ایسے اقدام کا تقاضا نہ کریں۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور پوری بین الاقوامی برادری کے مشاہدین کے لیے امریکی انتخابی اور قانونی نظام کے اندرونی معاملات اکثر گہری دلچسپی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ امریکہ کا عالمی سطح پر ایک کردار ہے۔ اگرچہ یہ مقدمہ خاص طور پر الاسکا کے سینیٹ الیکشن میں بیلٹ کی تکنیکی نوعیت اور مقامی سطح پر ووٹرز کے الجھاؤ کے گرد گھومتا ہے، لیکن یہ اس جاری بحث کو بھی اجاگر کرتا ہے جو اداروں کی غیر جانبداری، سیاست میں عدلیہ کی شمولیت اور بڑی عالمی طاقتوں میں جمہوری انتخابات کے انعقاد کے ارد گرد جاری ہے۔