سینٹ پیٹرزبرگ کے قسطنطنی محل میں ہونے والی ایک اہم سفارتی ملاقات کے دوران، امریکی خصوصی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں ایک ریٹائرڈ امریکی استاد کی رہائی عمل میں آئی اور فریقین نے امن مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات بدھ کے روز ہوئی جس میں جیرڈ کشنر نے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔ اس بیٹھک میں یوکرین اور روس دونوں کے لیے جنگ کے بعد کی سکیورٹی ضمانتوں پر مرکوز ایک سہ فریقی تکنیکی ملاقات کی تجویز پیش کی گئی، جسے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہونے والے مذاکرات کے دوران یوکرینی حکام نے پہلے ہی قبول کر لیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق، کریملن نے واضح کیا کہ یوکرین اور امریکہ کے مابین یہ نئے مذاکرات اگلے ماہ ہی ابوظہبی میں شروع ہو سکتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، اس سفارتی پیشرفت کے ساتھ ہی 74 سالہ ریٹائرڈ امریکی استاد اسٹیفن ہبرڈ کو بھی رہا کر دیا گیا، جو گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے روس کی قید میں تھے۔ انہیں یوکرین کے لیے لڑنے کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی تھی، جنہیں امریکہ نے غلط حراست قرار دیا تھا۔ الجزیرہ نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیفن ہبرڈ کی رہائی کے لیے ذاتی طور پر اپیل کی تھی اور سوشل میڈیا پر کہا کہ روس نے ان کے احترام میں کسی قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے رہا ہونے والے استاد سے ٹیلیفون پر بات بھی کی۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، مذاکرات کا یہ تازہ دور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیف میں یہ خدشات بڑھ رہے تھے کہ شاید ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کی حمایت سے پچھلے قدم ہٹا رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس وسیع تر تنازع کا آغاز فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے سے ہوا تھا، جس کے بعد سے یہ جنگ جاری ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے اس سب سے بڑے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے امن معاہدے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اگرچہ ناقدین ٹرمپ اور پوتن کے درمیان گرم ہوتے تعلقات پر تشویش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی سفارت کاری پر نظر رکھنے والوں کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی استحکام، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بہت وزن رکھتی ہیں۔ اعلیٰ سطح کے سفارتی ذرائع میں ہونے والی یہ تبدیلیاں دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کرنے والے معاشی اور سیاسی ماحول کی تشکیل کرتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق، یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز اگلے ماہ ہی ابوظہبی میں ہو سکتا ہے۔

