امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاو ¿ سے ملاقات کی ہے۔ اس اچانک ہونے والے دورے نے ایک ایسے وقت میں سفارتی حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے جب اسرائیلی رہنما کو سخت مقابلے والے انتخابات کا سامنا ہے۔
اس امر کی اطلاع آکسیوس (Axios) نے دو ایسے ذرائع کے حوالے سے دی جو اس معاملے سے آگاہ ہیں۔ دوسری جانب رائٹرز (Reuters) نے خبر دی ہے کہ وہ فوری طور پر اس دورے کی تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ پینٹاگون اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے بھی تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی، اس حوالے سے بھی فوری طور پر کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی قیادت کے ارد گرد اہم سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے آنے والے پارلیمانی انتخابات میں بنجمن نیتن یاو ¿ کی حمایت کا اعلان کیا، اور ایران کے خلاف جنگ میں انہیں امریکہ کا حلیف قرار دیتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق، 2023 کے ا ±س وقت کے واقعات اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں۔
اس کے برعکس، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار یا پیر کو ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ ٹو وے (2WAY) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بنجمن نیتن یاو ¿ کی حمایت کرنے سے گریز کیا۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کر رہے اور ان کی تمام تر توجہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر ہے، اور وہ صرف امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں۔
پس منظر
موجودہ صورتحال اس پس منظر میں سامنے آ رہی ہے کہ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، جو 2023 کے واقعات اور غزہ میں فوجی مہم کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاو ¿ کا مذہبی قوم پرست اتحاد اپنی حکومتی اکثریت کھو سکتا ہے، اگرچہ حزب اختلاف کے لیے بھی حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، اعلیٰ سطحی سفارتی دورے اور غیر ملکی قیادت کی حمایت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح ملکی انتخابات اور خارجہ پالیسی کے اتحاد آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ واشنگٹن کے حکام کے سرکاری مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں، جن میں صدارتی حمایت سے لے کر نائب صدر کی لاتعلقی تک شامل ہے، لیکن ایسے واقعات مشرق وسطیٰ میں سیاسی تبدیلیوں پر دی جانے والی مسلسل بین الاقوامی توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔

