امریکی سفارت کاری کا ایک اور باب اچانک بند ہو گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کو عہدے سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کر دی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیٹی زکاریا نے میڈیا بریفنگ کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا اور بتایا کہ کمبرلی گلفائل سے مستعفی ہونے کا کہہ دیا گیا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان الزامات پر خوش نہیں ہیں اور وہ اب یونان میں مزید نہیں رہیں گی۔
اس تنازعے کی بنیاد اس وقت پڑی جب وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹس اور بی بی سی کی جانب سے دیکھے گئے ٹیکسٹ میسیجز سامنے آئے۔ ان پیغامات میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمبرلی گلفائل نے ایک پرانے حامی ایرک ڈیٹرز سے پیسوں کا مطالبہ کیا۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹس کے مطابق آڈیو ریکارڈنگز بھی سامنے آئیں جن میں یونانی کاروباری شخصیات کے ساتھ تعلقات کا ذکر کیا گیا۔ کمبرلی گلفائل کے وکلاء نے ان پیغامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ وہ پچھلی تقریروں اور مشاورتی کام کے بقایا جات مانگ رہی تھیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق کمبرلی گلفائل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل بیان میں تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور اپنے دفاع کا عزم ظاہر کیا۔
پس منظر
57 سالہ کمبرلی گلفائل کا تعلق فاکس نیوز سے رہا ہے اور وہ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی سابقہ اہلیہ ہیں۔ انہیں دسمبر 2024 میں یونان کے لیے امریکی سفیر نامزد کیا گیا تھا۔ اس دوران سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو بھی ان کے ساتھ ایتھنز گئے تھے، اور بی بی سی نیوز کے مطابق وہ بھی اس صورتحال سے ناخوش دکھائی دیے۔
اہمیت
بین الاقوامی امور اور سفارتی تعلقات پر نظر رکھنے والوں کے لیے ایسے واقعات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات سرکاری عہدوں پر تعینات افراد کے احتساب اور ان کے طرزِ عمل پر گہری نظر ڈالتے ہیں۔

