واشنگٹن نے کینیڈین سیاست دانوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہدف شدہ تجارتی پالیسیوں اور سیاسی ملاقاتوں کے ذریعے آنے والے امریکی وسطی مدت کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، امریکی سفارت خانے نے ایک فیکٹ شیٹ جاری کی جس میں کینیڈین ٹیرف، سیاسی ملاقاتوں اور ٹیرف مخالف اشتہارات کو انتخابات میں مداخلت کی کوشش کا ثبوت قرار دیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ کینیڈین حکومت نے امریکی انتخابات میں ممکنہ مداخلت سے متعلق خدشات کو نظر انداز کیا ہے۔ سفارت خانے نے کینیڈین وزراء اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کے عوامی بیانات اور سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ 3 نومبر کو ہونے والے وسطی مدت کے انتخابات سے قبل امریکی سیاست کو متاثر کرنے کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔

الجزیرہ نے بتایا کہ جن حکام کے نام لیے گئے ہیں ان میں کینیڈا کی صنعت کی وزیر میلانی جولی بھی شامل ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے اگست میں جولی کے ان ریمارکس کا ذکر کیا جن میں مخصوص امریکی ریاستوں کو نشانہ بنانے والے جوابی تجارتی اقدامات کے ذریعے سیاسی دباؤ پیدا کرنے کی بات کی گئی تھی، اور ستمبر میں بوسٹن اور شکاگو میں ڈیموکریٹک حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اس کے جواب میں، میلانی جولی نے مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے 14 اکتوبر کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کے اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری کوغب کرنا اور ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں سیاست دانوں سے ملاقاتوں کے ذریعے کینیڈا کی معیشت کو مضبوط بنانا تھا، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔

الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ امریکی سفارت خانے نے اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ کی جانب سے جوابی اقدامات کے مطالبات اور ٹیرف کے خلاف ان کی حکومت کی تشہیری مہم کی طرف اشارہ کیا، جس میں 1987 کے ایک ریڈیو خطاب سے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی کلپس شامل تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق، اگرچہ سفارت خانے نے کینیڈین حکام کی جانب سے امریکی تجارتی پالیسی کو متاثر کرنے کی کوششوں کی مختلف مثالیں تفصیل سے بیان کیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اقدامات کس طرح انتخابات میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی امریکہ اور کینیڈا تجارتی جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ کینیڈا نے امریکی ٹیرف کے جواب میں اپنی درآمدی ٹیکس عائد کیے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ سال اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ کی طرف سے شروع کردہ ایک تشہیری مہم، جس میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی جانب سے ٹیرف کی مخالفت کو دکھایا گیا تھا، کے باعث صدر ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے تھے۔

یہ اہم کیوں ہے

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی معاشی پیش رفت کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے، بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تنازعات بین الاقوامی تجارت اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ماخذ مواد واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی پالیسیوں اور سیاسی رابطوں پر کشیدگی کی تفصیل دیتا ہے، لیکن یہ انتخابی چکروں کے دوران ملکی معاشی دباؤ اور خارجی تعلقات کے درمیان نازک توازن کو اجاگر کرتا ہے۔