الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا اور اپوزیشن کے مظاہروں کے دوران طاقت کے اندھا دھند استعمال کو فوری طور پر روکے۔

الجزیرہ اور رائیٹرز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دو درجن کے قریب آزاد ماہرین کے ایک گروپ نے بھارتی حکام کے اقدامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ پرامن مظاہرین کو زخمی کیا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، جبکہ حراست کے دوران صنفی تشدد اور بدسلوکی کے الزامات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن اور نہتے طلبا کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، جن میں لاٹھی چارج بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے حکام پر زور دیا کہ اجتماعات پر پابندیاں ختم کی جائیں اور ڈیجیٹل سرویلنس، بائیو میٹرکس اور انٹرنیٹ معطل کرنے کے اقدامات روکے جائیں۔

پس منظر

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، رواں ماہ یہ احتجاج کاکرودھ جنتا پارٹی (سی جے پی)، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور طلبا تنظیموں کی قیادت میں شروع ہوا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ووٹر لسٹوں سے 130 ملین نام نکالے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی اس نظرثانی سے غریبوں، بے گھر افراد اور مسلمانوں سمیت نسلی اقلیتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ صرف دوہرے، فوت شدہ، منتقل شدہ اور نااہل ووٹرز کو ہٹا رہے ہیں، اور غلطی سے خارج ہونے والے افراد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

الجزیرہ اور رائیٹرز نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارت روایتی طور پر اس قسم کی تنقید کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کرتا آیا ہے۔

اس کی کیا اہمیت ہے

خطے کے عام قارئین کے لیے، انتخابی شفافیت، اقلیتوں کے حقوق اور عوامی مظاہروں سے نمٹنے کے طریقے جمہوریت اور حکومتی جوابدہی کے وسیع تر مباحث میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال سے پسماندہ طبقات کو شہری حقوق کی ادائیگی اور انتظامی فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں درپیش چیلنجز ظاہر ہوتے ہیں۔