دفاعی دنیا میں ایک اہم سفارتی قدم
بین الاقوامی دفاعی اتحادوں کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں برطانوی عہدیدار اینڈی برنہم نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ برطانیہ 'گلوبل کمبیٹ ایئر پروگرام' (GCAP) میں جرمنی کی شمولیت کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک بڑا اور اہم منصوبہ ہے جس کے تحت برطانیہ، اٹلی اور جاپان جدید ترین لڑاکا طیارہ تیار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس دفاعی معاہدے کی وسعت کا یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اتحاد مزید ممالک کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں کینسر کو بطور 'ابزروور' (مکشوف/مشاہدہ کار) اس منصوبے میں شامل کیا گیا تھا، جس سے اس ہوابازی کے بڑے منصوبے میں عالمی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔
نئی نسل کی فضایی طاقت کی تیاری
جی سی اے پی (GCAP) کی یہ شراکت داری حالیہ برسوں کے سب سے بڑے کثیر القومی دفاعی منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد ایک ایسا جدید ترین جنگی طیارہ بنانا ہے جو ریڈار سے بچنے کی صلاحیت، جدید ترین ایویونکس اور مشترکہ جنگی صلاحیتوں سے لیس ہو۔ بانی ممالک اپنے وسائل کو ملا کر جدید فوجی ہوابازی کی ترقی کے اسفل اور تکنیکی بوجھ کو آپس میں بانٹنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ جرمنی کی اس میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، لیکن الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی قیادت کی جانب سے اس کھلے پن کا اظہار ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ دفاعی اخراجات میں اضافے اور پیچیدہ عالمی حالات کے پیش نظر اس طرح کے مشترکہ دفاعی فریم ورک کو فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
لندن، برلن اور اس اتحاد کے دیگر شراکت داروں کے درمیان دفاعی اور سفارتی مذاکرات جیسے جیسے آگے بڑھیں گے، جرمنی کی باضابطہ شرکت یا اس طیارہ ساز منصوبے میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

