استنبول میں صبح کے وقت ہنگامہ آرائی کچلنے والے پولیس دستوں نے اپوزیشن حامی خبر رساں چینل حلق ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر کا رخ کیا، جہاں ملازمین کو باہر روک دیا گیا اور نشریات کو اچانک منقطع کر دیا گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، مالیاتی جرائم سے نمٹنے والی پولیس نے عمارت کی تلاشی لی جبکہ یوٹیوب اور ٹیلی وژن کی نشریات کو بند کر دیا گیا۔

بی بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ کارروائی حلق ٹی وی کے چیئرمین جعفر ماہیروغلو کے خلاف ایک تحقیقات کا حصہ تھی۔ استغاثہ نے رشوت ستانی، ٹھیکوں میں دھاندلی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت 17 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، جبکہ ترک میڈیا کے مطابق چیئرمین کے 7 رشتے داروں سمیت 11 افراد کو حتحاست میں لے لیا گیا۔ جعفر ماہیروغلو، جو چھاپے کے وقت مبینہ طور پر ملک سے باہر تھے، نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق کو سیاسی وجوہات کی بنا پر چھینا جا رہا ہے۔

اس چھاپے پر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، نیو پارٹی کے رہنما ازگور اوزل نے اس کارروائی کو کمزور اور بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبح کے وقت کسی ٹی وی چینل پر دھاوا بولنا ایسا کام ہے جو صرف آمر کرتے ہیں۔ استنبول بار ایسوسی ایشن نے بھی اس اقدام کی مذمت کی اور بتایا کہ یہ کارروائی صدر رجب طیب اردگان کے اہم سیاسی حریف اور ایک سال سے زائد عرصے سے قید ایکرم امام اوغلو کے عدالتی دفاع کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق، یہ واقعہ صدر اردگان اور ان کی حکمران اے کے پارٹی پر تنقید کرنے والے خبر رساں اداروں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کی کڑی ہے۔ اس سے محض 2 ہفتے قبل حکام نے ایل جی بی ٹی پروپیگنڈا کے الزامات کے تحت ایک اہم خبر رساں ویب سائٹ کو بند کر دیا تھا۔ حلق ٹی وی کو اپوزیشن کی ریپبلکن پیپلز پارٹی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

بی بی سی نیوز کی جانب سے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ترکی 2026 کی عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 163 ویں نمبر پر ہے۔ آر ایس ایف نے نشاندہی کی کہ قومی میڈیا کے تقریباً 90 فیصد ادارے حکومتی کنٹرول میں ہیں، جو برسوں کے قانونی اور مالی دباؤ، کارپوریٹ خریداری اور خود ساختہ سنسرشپ کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ اہم کیوں ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے آزادی صحافت اور ریاستی اختیار کا آزاد میڈیا کے ساتھ ٹکراؤ گہرے اثرات رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت پارلیمانی اور صدارتی جمہوریتوں میں میڈیا اداروں کے ماحول، نشریاتی اداروں کی ضابطہ بندی اور میڈیا مالکان کو درپیش قانونی چیلنجز پر جاری مباحثوں کو اجاگر کرتی ہے۔