قرنِ افریقہ کے ساحلوں کے قریب سمندر کا یہ ہولناک منظر انسانی المیے کی ایک اور دردناک داستان رقم کر گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جبوتی کے ساحل کے قریب ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 139 تارکین وطن زندگی کی بازی ہار گئے، جن میں 15 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ کشتی 300 سے زائد افراد کو سوار کیے ہوئے یمن کی جانب سفر پر روانہ ہوئی تھی کہ اس خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔
الجزیرہ کے مطابق اس دلخراش سانحے کے بعد 84 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ بدقسمت کشتی اسی خطرناک بحری راستے پر سفر کر رہی تھی جو قرنِ افریقہ کو جزیرہ نما عرب سے ملاتا ہے، جہاں غریب اور پسماندہ خطوں کے مکین بہتر مستقبل کے خواب سجائے سفر کرتے ہیں۔
مشرقی روٹ کے خطرناک حقائق
الجزیرہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ حادثہ اس مشرقی روٹ کے انتہائی سنگین اور مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ اس حوالے سے دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکیلے سال 2025 کے دوران اس خطرناک ہجرت کے کوریڈور میں 900 سے زائد افراد یا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔
پاکستان کے قارئین کے لیے ایک لمحہ فکریہ
پاکستانی قارئین کے لیے یہ سمندری سانحات اور تارکین وطن کے پرخطر و غیر قانونی سفر اس بات کی دردناک یاد دہانی کراتے ہیں کہ کس قدر مجبوری اور کسمپرسی کے حالات انسان کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خطرناک سمندروں کو عبور کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جہاں وہ صرف ایک بہتر معاش اور زندگی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔

