کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے لیے تکلیف دہ فون کالز کرنا اور فوری طور پر عوامی تنقید کی زد میں آنا اب ویلز رگبی ٹیم کے ہیڈ کوچ اسٹیو ٹینڈی کی نوکری کا معمول بن چکا ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، اسٹیو ٹینڈی نے حال ہی میں نومبر کی نیشنز چیمپئن شپ کے لیے 39 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد روایتی طور پر ملک بھر میں ردعمل سامنے آیا ہے۔

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اس 39 رکنی اسکواڈ کے اعلان سے جہاں تین نئے کھلاڑیوں انورین اووین، چے ہوپ اور ریس بریٹ کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا گیا، وہیں ریو ڈائر، سب ڈیوس، ٹائین بیشام اور گیبریل ہامر ویب کی ٹیم میں واپسی بھی ہوئی۔ دوسری جانب، بی بی سی اسپورٹس نے بتایا کہ ٹاؤلوپے فالیٹاؤ، میکس پیج، ایلیٹ ڈی، برائن بریڈلی، میسن گریڈی اور ٹومی ریفیل جیسے نمایاں کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے پر مایوسی بھی پھیلی، جن میں سے ٹومی ریفیل کے بارے میں کوچ نے بتایا کہ وہ گھٹنے کی چَر سے دوچار ہیں۔

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اسٹیو ٹینڈی نے اس حوالے سے کہا: "There'll be people out there challenging me on selections. No-one really says who they would leave out either, it's always the people that should be in! It's something that comes with the territory."

پس منظر

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اسٹیو ٹینڈی 2025 کے موسم گرما میں اسکاٹ لینڈ کے دفاعی کوچ کا عہدہ چھوڑ کر ویلز کے ہیڈ کوچ بنے تھے، اور تب سے اب تک وہ ایک سال سے زائد عرصے میں 13 میچوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔ اوپسریز کے سابق فلانکر اور باس اپنے دورِ کار میں اب تک 54 کھلاڑیوں کو آزما چکے ہیں۔ آسٹریلیا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے اگرچہ ٹیم صرف 33 کھلاڑیوں تک محدود ہوگی، جہاں ان کا پہلا مقابلہ زمبابوے کے خلاف ہوگا، لیکن ٹینڈی نے آنے والی نیشنز چیمپئن شپ کے لیے 39 کھلاڑیوں کے بڑے گروپ کا انتخاب کیا۔ بی بی سی اسپورٹس نے یہ بھی بتایا کہ ٹیم مجر مارٹن ولیمز بجٹ کی پابندیوں کی وجہ سے اس سے بھی بڑے اسکواڈ پر اعتراض کر سکتے تھے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے وہ کھیلوں کے شائقین جو بین الاقوامی رگبی پر نظر رکھتے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسکواڈ کا انتخاب اور قومی ٹیم کے کوچز پر دباؤ ہر سطح پر اعلیٰ کارکردگی کے کھیلوں کے عالمی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ عوامی توقعات کو سنبھالنا، محدود بجٹ میں توازن رکھنا اور کھلاڑیوں کو مشکل اور ذاتی نوعیت کی خبریں سنانا ایسے دباؤ ہیں جو کھیل اور ملک سے بالاتر ہو کر ہر جگہ کے کھیلوں کے منتظمین کو درپیش ہوتے ہیں۔