ترکیہ کی سڑکوں پر اس وقت ہزاروں مشتعل شہری سراپا احتجاج ہیں جو صحافیوں کی مسلسل گرفتاریوں اور آزاد میڈیا پر کسا جانے والا شکنجہ فوری طور پر ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ عوامی مظاہرے صحافیوں کی نظربندیوں کی حالیہ لہر، حزب اختلاف کے نشریاتی ادارے خلق ٹی وی (Halk TV) کو حکومتی تحویل میں لینے اور متعدد خبر رساں ویب سائٹس کی بندش کے خلاف پھوٹ پڑے۔

الجزیرہ کے مطابق بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کے جواب میں حکریتی حلقوں کا موقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی سے منسلک نہیں ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ میں جاری یہ تناؤ اور بے چینی ملک کے میڈیا کے شعبے پر پڑنے والے حالیہ سرکاری اثرات کا نتیجہ ہے۔ حکام نے متعدد رپورٹرز کو جیلوں میں ڈال دیا ہے، اپوزیشن کے نشریاتی ادارے خلق ٹی وی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور کئی خبر رساں ویب سائٹس تک رسائی مسدود کر دی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر عوامی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جن میں ہزاروں افراد میڈیا کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کی اہمیت

خطے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اور قارئین کے لیے آزادی صحافت، نشریاتی اداروں کی سرکاری ضابطہ بندی اور عوامی احتجاج سے جڑے یہ سوالات آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر ہونے والی طویل بحث کا ایک اہم حصہ ہیں۔