الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پولینڈ کے 20 سے زائد چھوٹے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اسقاطِ حمل کی مفت اور قانونی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرے ملک کی اعلیٰ عدالت کی طرف سے اسقاطِ حمل پر تقریباً مکمل پابندی عائد کیے جانے کی چھٹی برسی کے موقع پر منعقد کیے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ مظاهرے ایسے وقت میں ہوئے جب پولینڈ کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں موجودہ پابندیوں میں نرمی لانے کے لیے دو الگ الگ مسودہ قانون منظور کیے ہیں۔ تاہم، کارکنوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ قدامت پسند صدر کارول نوروکی ان قوانین کو ویٹو کر دیں گے۔ تولیدی حقوق کی تنظیم 'ابورشن ڈریم ٹیم' سے وابستہ صوفیا مارسینیک نے الجزیرہ کو بتایا کہ پارلیمانی انتخابات سے ایک سال قبل ان مسودہ قوانین کی منظوری محض ایک علامتی قدم ہے نہ کہ حقیقی اصلاحات، کیونکہ لبرل حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ بل صدارتی ویٹو کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔
دارالحکومت وارسا میں، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، خراب اور برسات کے موسم کے باوجود تقریباً 1000 مظاہرین پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوئے۔ 'ابو ٹیک' اسقاطِ حمل مرکز کی 36 سالہ منیجر ایمیلیا نیمیک نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران زمینی سطح پر کچھ خاص تبدیل نہیں ہوا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق پولینڈ میں اسقاطِ حمل سے متعلق سخت قوانین سال 1993 سے نافذ ہیں۔ اس وقت یہ عمل صرف اسی صورت میں قانونی حیثیت رکھتا ہے جب حمل کسی مجرمانہ فعل جیسے کہ زیادتی یا زنا بالجبر کا نتیجہ ہو، یا پھر اس سے ماں کی جان یا صحت کو شدید خطرہ لاحق ہو۔ سال 2016 میں ملک بھر میں سیاہ لباس پہن کر خواتین نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ تاہم قوانین میں نرمی کرنے کے بجائے سنہ 2020 میں قوم پرست قدامت پسند 'لا اینڈ جسٹیس' حکومت کے دور میں اس میں مزید سختی کر دی گئی اور پیدائشی نقصانات والے جنین کے اسقاطِ حمل پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
سال 2023 کے انتخابات سے قبل وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی حکومت نے اسقاطِ حمل کے قوانین کو نرم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اتحادی حکومت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اس معاملے پر پیش رفت سست رہی ہے۔ الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ سخت قوانین کے باوجود پولینڈ میں اسقاطِ حمل کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، اور زیادہ تر خواتین ملک سے باہر سے حاصل کی گئی گولیوں کے ذریعے گھر پر ہی یہ عمل کرتی ہیں۔ پولینڈ کے قانون کے تحت اسقاطِ حمل کروانے والی خواتین کو تو کسی فوجداری کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، لیکن اس میں مدد کرنے والے افراد بشمول ڈاکٹروں اور گھریلو افراد کے، قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
عالمی سطح پر قانون سازی کے مباحث کا جائزہ لینے والے حلقوں کے لیے پولینڈ کی یہ صورتحال سماجی قدامت پرستی، اتحادی سیاست اور عوامی جدوجہد کے پیچیدہ امتزاج کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں اکثریت یا سربراہی تبدیل ہونے کے باوجود کس طرح قانونی پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں، جبکہ عام شہری متبادل ذرائع کے ذریعے ان قوانین کے درمیان اپنا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔

