نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں اس وقت ایک سنسنی خیز سفارتی تنازعہ سامنے آیا جب کیوبا پر امریکی تجارتی پابندی کے حوالے سے ہونے والی رائے شماری کے دوران ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس گرما گرم بحث کے دوران امریکی ایلچی مائیک والٹز نے کیوبا کی اقوام متحدہ کی ٹیم کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ امریکہ ہے"۔

الجزیرہ کے مطابق یہ تلخ کلامی اس جزیرہ نما ملک کے خلاف جاری طویل امریکی تجارتی پابندیوں سے متعلق ووٹنگ کے دوران ہوئی۔ اس کے علاوہ، نشریاتی ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ رواں سال جنوری سے امریکہ کی جانب سے کیوبا پر فیول ناکہ بندی بھی مسلط کی گئی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ سفارتی کشمکش نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکز میں تجارتی پابندی کے ووٹ کی کارروائی کے دوران پیش آئی۔ رپورٹ میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ رواں برس جنوری سے کیوبا کے خلاف ایندھن کی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

بین الاقوامی برادری اور مبصرین کے نزدیک، اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں میں اس نوعیت کے عوامی سفارتی تصادم اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تجارتی پالیسیوں، پابندیوں اور معاشی ناکہ بندیوں پر خودمختار ریاستوں کے درمیان کشیدگی کتنی گہری ہے۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ دوطرفہ تنازعات کس طرح کثیرالجہتی اداروں تک پھیل جاتے ہیں، جس سے پابندیوں کا شکار ممالک کو درپیش معاشی دباؤ پر پوری دنیا کی توجہ مبذول ہوتی ہے۔