مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق مینیجر ایرک ٹین ہاگ نے کھل کر بات کرتے ہوئے کہ ہے کہ کرسٹیانو رونلڈو نے ان کے دور میں ٹیم کو مایوس کیا۔ ایکسپریس ٹربیون اور بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹس کے مطابق، ڈچ کوچ کا کہنا تھا کہ پرتگالی اسٹار کھلاڑی فزیکل تیاریوں اور توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔
رپورٹس کے مطابق، اکتوبر 2022ء میں ٹوٹنہم کے خلاف میچ کے دوران متبادل کے طور پر میدان میں اترنے سے انکار کے بعد دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد رونلڈو کو چیلسی کے خلاف میچ سے باہر کر دیا گیا، جس کے بعد رونلڈو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یونائیٹڈ کی جانب سے دھوکہ دہی کا احساس ظاہر کیا اور کہا کہ وہ ٹین ہاگ کی عزت نہیں کرتے۔ اگلے ہی مہینے باہمی رضامندی سے ان کا معاہدہ ختم کر دیا گیا۔
دی ایتھلیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹین ہاگ کا کہنا تھا کہ اس نے ٹیم کو مایوس کیا اور مجھے بھی مایوس کیا کیونکہ ہم نے اس کے ساتھ منصوبہ بندی کی تھی۔ ٹین ہاگ نے مزید بتایا کہ برٹ فورڈ کے خلاف شروع میں ملنے والی شکست کے بعد رونلڈو نے ٹریننگ سیشنز میں حصہ لینے سے گریز کیا اور پریسنگ کے لیے خود کو جسمانی طور پر تیار نہیں کیا۔
پس منظر
ایکسپریس ٹربیون اور بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ایرک ٹین ہاگ کو 2022ء میں مانچسٹر یونائیٹڈ کا مینیجر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے دور میں ٹیم نے 2023ء میں کاراباؤ کپ اور مانچسٹر سٹی کے خلاف فتح کے بعد 2024ء میں ایف اے کپ جیتا۔ تاہم، اکتوبر 2024ء میں جب ٹیم پریمیئر لیگ میں 14 ویں نمبر پر تھی، تو ٹین ہاگ کو برطرف کر دیا گیا۔
اپنے انٹرویو میں ٹین ہاگ نے کلب کی انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وفاداری، تعاون اور باہمی رابطے کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انہیں شرمندگی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب مڈفیلڈر اسکاٹ مک ٹومینے کو ان کی مرضی کے بغیر ناپولی کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا، اور ذکر کیا کہ وہ اس سے قبل ہیری کین، ڈیکلن رائس اور فرینک ڈی جونگ کو سائن کرنا چاہتے تھے۔ دریں اثنا، بی بی سی اسپورٹس نے نوٹ کیا کہ ٹین ہاگ کے انٹرویو کی اشاعت اسی وقت سامنے آئی جب پرتگالی فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے بین الاقوامی کیمپ کے دوران ایک واقعے پر کرسٹیانو رونلڈو کو 30 دن کی معطلی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے، یورپی فٹ بال کلبوں کے اندرونی تنازعات پیشہ ورانہ کھیلوں میں پائے جانے والے شدید دباؤ، انتظامی چیلنجز اور انا کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک بڑے کھلاڑی اور کلب مینیجر کے درمیان یہ کشیدگی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح رابطے کی کمی اور پوری نہ ہونے والی توقعات اعلیٰ ترین سطح پر ٹیم کے مورال، کلب کی کارکردگی اور انتظامی استحکام کو متاثر کرتی ہیں۔

