اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں پولیس پارٹی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں لائبہ اعجاز خودکشی کیس کا اہم ملزم ہلاک ہو گیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم ملزم محمد نعمان کو اس کی نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی۔
اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری (ICT) پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ موٹر سائیکل پر سوار چار ملزمان نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں ملزم نعمان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوا اور بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے محفوظ رہی جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
اہم حقائق
- جیو نیوز کے مطابق ملزم نعمان کو پچھلے ہفتے اسلام آباد کے سیکٹر H-13 سے گرفتار کیا گیا تھا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
- پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) سے بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے والی گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز نے اس ماہ کے شروع میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔
- پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے لائبہ کو امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور جعلی کاغذات کے بہانے لاکھوں روپے کا چونا لگایا تھا۔
- جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نعمان کی لائبہ سے پہلی ملاقات مارچ 2023 میں ہوئی تھی جب لائبہ نے انٹرنشپ کے لیے درخواست دی تھی، اور بعد میں ملزم نے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو ایک ٹک شاپ کی تشہیر کے لیے رکھا تھا جسے عائزہ نامی خاتون چلاتی تھیں جن کا بھائی امریکہ میں مقیم تھا۔
- تفتیش کاروں نے انکشاف کیا کہ نعمان نے مبینہ طور پر عائزہ کے نام سے ایک آن لائن اکاؤنٹ بنایا، چی جی پی ٹی (ChatGPT) کا استعمال کرتے ہوئے عائزہ اور اس کے بھائی کی نقل کی، اور پلاٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور خاندانی زیورات سمیت 2.1 ملین روپے حاصل کیے۔
- پولیس کو شبہ ہے کہ نعمان نے دیگر خواتین کو بھی دھوکہ دیا ہوگا اور گرفتاری سے قبل اس نے اپنے موبائل فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا جس کا فارنزک معائنہ کیا جائے گا۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کردہ پس منظر کے مطابق لائبہ نے عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے نعمان سے مدد مانگی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ نعمان نے جو دستاویزات فراہم کیں وہ اصلی لگتی تھیں۔ تاہم شک اس وقت پیدا ہوا جب نعمان نے لائبہ کے ویزا انٹرویو کی تاریخ بار بار بدلی—پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر، اور آخر کار 26 ستمبر۔ دستاویزات کی خود جانچ کرنے پر لائبہ کو پتہ چلا کہ وہ جعلی تھیں۔ سوتیلی ماں کی طرف سے دیے گئے زیورات واپس کرنے کے دباؤ کے تحت لائبہ نے نعمان سے کہا کہ وہ پہلے زیورات واپس کرے، جس کے بعد ملزم نے رابطہ ختم کر دیا اور اسے نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔
اس واقعے کی اہمیت
یہ کیس اس سنگین خطرے کو اجاگر کرتا ہے جو شہریوں کو آن لائن جعل سازی، دستاویزات کے فراڈ اور مقامی نیٹ ورک کے ذریعے چلنے والے فریب کاری کے اسکینڈلز کی صورت میں درپیش ہے۔ جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تفتیش کے دوران درپیش چیلنجز اور ملازمت کے متلاشیوں اور طلبا کو پھنسانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید آلات کے استعمال کے وسیع تر مسئلے کو بھی سامنے لاتا ہے۔
