نیلے اور پیلے رنگ کے پرچموں میں لپٹے ہوئے، تھکے ماندے اور طویل فاقہ کشی کے ستائے ہوئے شہری جب بسوں سے اترے تو طویل جدائی کے بعد اپنے پیاروں کے گلے لگ گئے۔ الجزیرہ، اے پی اور رروئٹرزٹرز کے مطابق، یہ جذباتی مناظر ایک بڑی شہری انخلا کی کارروائی کے دوران دیکھنے میں آئے، جو ماسکو کی جنگ کے چار سال سے زائد عرصے میں اس نوعیت کی پہلی جنگ بندی کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اولیشکی کے لیے طے پانے والی یہ چھ روزہ جنگ بندی امریکی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ اور پوپ لیو چہارم کی کوششوں سے حاصل ہوئی، جو 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے مقامی سطح پر لڑائی میں سب سے طویل وقفہ ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ثالثی پر ریاستہائے متحدہ اور خاتون اول کا شکریہ ادا کیا۔

پس منظر

الجزیرہ، اے پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، لڑائی اور ڈرون حملوں کی وجہ سے اولیشکی کے لیے رسد کے راستے شدید متاثر ہوئے تھے اور مئی میں خوراک کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ اس صورتحال نے سینکڑوں رہائشیوں کو شدید فاقہ کشی میں دھکیل دیا۔ انخلا کرنے والے افراد نے رائٹرز کو ہولناک رودادیں سنائیں، جن میں ویلچیر پر بیٹھا ایک بزرگ بھی شامل تھا جس نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس کا 20 کلو وزن کم ہو گیا، اور سویٹلانا یرماکووا جنہوں نے گھاس کھانے اور خوراک کی تلاش میں بارودی سرنگوں کے درمیان سے گزرنے کا ذکر کیا۔ یوکرین کے زیر کنٹرول علاقے تک پہنچنے کے لیے شہریوں نے کریمیا سے بس کے ذریعے روس کے قصبے اناپا کا پیچیدہ سفر کیا، بیلاروس کے لیے پرواز لی، اور بالآخر یوکرین میں داخل ہوئے۔ روسی اور یوکرینی حکام نے تصدیق کی کہ جنگ بندی برقرار رہی، جس سے سڑکوں سے بارودی سرنگیں ہٹانے اور خوراک لانے کا موقع ملا۔

اس کی اہمیت کیا ہے

بین الاقوامی مبصرین اور دنیا بھر کے عام شہریوں کے لیے، طویل تنازعات اکثر محض دور دراز کے اعداد و شمار محسوس ہوتے ہیں جب تک کہ بقا اور ملاپ کی انسانی کہانیاں سامنے نہ آئیں۔ محصور خاندانوں کی مشکلات اور فاقہ کشی جنگ کے شدید انسانی نقصان کو اجاگر کرتی ہیں، ساتھ ہی یہ بتاتی ہیں کہ کس طرح بین الاقوامی سفارت کاری اور انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی بڑی تباہی کے دوران رحمت کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔