بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے وزیرِ نقل و حمل اوسکار پونتے نے ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے تباہ کن تصادم میں کم از کم 69 افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈرڈ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور اس صورتحال میں ان کی فوری ذمے داری پوزیشن پر غور کرنے کے بجائے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق انہیں سیاسی حریفوں، ٹریڈ یونینز اور وزارتِ نقل و حمل کے باہر احتجاج کرنے والوں کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ بدھ کی صبح وسطی صوبے ٹولیڈو کے قصبے اوردا کے قریب اس وقت پیش آیا جب 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی سرکاری رینف ہائی اسپیڈ ٹرین ایک کھڑی ہوئی ریل گاڑی کے پچھلے حصے سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق کھڑی ٹرین میں ٹکرانے والی ٹرین کی اگلی بوگی دوسری ٹرین کے اندر گھس گئی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق یہ جدید یورپی تاریخ کے بدترین ریلوے حادثات میں سے ایک اور 2013 کے بعد اسپین کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ ہے۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہسپانوی میڈیا میں سامنے آنے والی مبینہ آڈیو ریکارڈنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈرڈ کے کنٹرول سینٹر نے ایک ہائی اسپیڈ ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جبکہ دوسری ٹرین تقریبا 25 کلومیٹر آگے رکی ہوئی تھی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق پونتے نے اس سے قبل بغیر کسی رفتار کی پابندی کے ٹرینوں کو آگے بڑھنے کی ہدایت دینے کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیا تھا، اور بتایا کہ اس صبح کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے چھ چلتی ہوئی ٹرینیں عارضی طور پر رک گئی تھیں۔ اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے جہاں بی بی سی نیوز کے مطابق سومار پلیٹ فارم کے کانگریس رکن البرٹو ایبانیز نے ان لیکس کو قابلِ مذمت قرار دیا جبکہ پودیموس کی وزارتِ عظمیٰ کی امیدوار آئرین مونٹیرو نے خبردار کیا کہ ذمے داری تنہا کسی ایک کارکن پر نہیں ڈالی جانی چاہیے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق بدھ کا یہ المیہ ایک سال کے اندر اسپین میں پیش آنے والا دوسرا بڑا ریلوے حادثہ ہے، اس سے قبل جنوری میں اسی میڈرڈ سے سیویل روٹ پر ایڈاموز کے مقام پر ایک تصادم میں 46 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے بیان دیا ہے کہ اسپین کے ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک پر عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے اور اتنے کم عرصے میں دو ایک جیسے المیوں کا پیش آنا ناقابلِ قبول ہے۔ پونتے نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی بھی کارکن کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کریں گے، جبکہ ٹریڈ یونینز، مظاہرین اور سیاسی شخصیات نے ریلوے کے نظام اور حفاظت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس واقعے کی اہمیت

بین الاقوامی خبروں پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے حادثات سخت حفاظتی اصولوں، خودکار کنٹرول سسٹمز اور سرکاری خدمات میں جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات انتظامی نگرانی، تکنیکی خرابیوں کے انتظام اور نظامی بحرانوں کے بعد پیدا ہونے والے سماجی و سیاسی اثرات پر عوامی بحث کو جنم دیتے ہیں۔