صومالیہ کے پنٹ لینڈ ساحل پر واقع ماہی گیری کا قصبہ بندر بیلہ اس وقت سمندری قزاقی کے نئے بحران کا مرکز بن چکا ہے، جہاں عام رہائشی سیکیورٹی آپریشنز اور روزمرہ کی بقا کی جنگ کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، قزاقی کے نئے واقعات اور اس کے بعد سیکیورٹی کریک ڈاؤن نے ان مقامی مچھیروں کے روزگار کو شدید طور پر متاثر کیا ہے جو اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مکمل طور پر سمندر پر انحصار کرتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، اپریل کے آخر سے صومالیہ کے ساحلوں کے قریب قزاقی میں تیزی آئی ہے اور کئی اغوا شدہ بحری جہاز بندر بیلہ کے قریب روکے گئے ہیں۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ قزاق مچھیروں کا روپ دھار سکتے ہیں، مقامی حکام نے اگست کے آخر میں دو ماہ کی پابندی عائد کر دی تھی جس کے تحت مچھیروں کے سمندر میں جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ 35 سالہ مچھیرے عبدالفتتاح محمد، جنہوں نے 15 سال کی عمر میں مچھلی کا شکار شروع کیا تھا، نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ پابندیاں ایسی محسوس ہوتی جیسے کسی ایسے جرم کی سزا دی جا رہی ہو جس سے اس پوری برادری کا کوئی تعلق نہیں۔

عبدالفتتاح کے مطابق مچھیروں کو اس پابندی پر عمل کرنے یا اس کی خلاف ورزی کرنے دونوں صورتوں میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔ سمندر میں جانے پر مقامی حکام کی طرف سے قزاقی کا الزام لگنے یا اغوا شدہ جہازوں کو رسد پہنچانے کا خطرہ ہوتا ہے، جبکہ کھلے سمندر میں کام کرنے پر گرفتاری، تشدد یا بین الاقوامی بحری افواج کی طرف سے قزاق سمجھ کر پکڑے جانے اور غیر ملکی جیلوں میں ڈالے جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ عبدالفتتاح نے الجزیرہ کو یہ بھی بتایا کہ مچھلی کے شکار میں کمی اور غیر ملکی غیر قانونی ٹرالرز پہلے ہی خاندانوں کی کفالت کو مشکل بنا چکے ہیں، جس کی وجہ سے برادری کے کچھ افراد نے اس تمام نقصان کے باوجود سمندر میں ہتھیار اٹھانے کی راہ چن لی۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق 1991 میں صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد سمندر پر نگرانی کا نظام کمزور پڑ گیا، جس سے ملک کا ساحل غیر ملکی ٹرالرز کی غیر قانونی ماہی گیری کے لیے غیر محفوظ ہو گیا جن کی صلاحیت مقامی مچھیروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وسائل کی لوٹ مار نے غم و غصے کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں کچھ مقامی افراد نے سمندری قزاقی کا رخ کیا۔ حالیہ اغوا کے واقعات کی تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ اس میں تجارتی بحری جہازوں، ماہی گیری کی کشتیوں یا دؤوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

بین الاقوامی سمندری سیکیورٹی اور ساحلی معیشت کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے، یہ صورتحال انسدادِ قزاقی کے اقدامات اور کمزور سویلین آبادی کی فلاح و بہبود کے درمیان پیچیدہ کشمکش کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سیکیورٹی آپریشنز اور مقامی کریک ڈاؤن کا مقصد سمندر میں مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنا ہے، لیکن روایتی روزگار پر پابندیاں نادیدہ طور پر ان دیانتدار کارکنوں کے لیے معاشی مشکلات کو مزید گہرا کر سکتی ہیں جو اسی ساحلی پٹی پر رہتے ہیں۔