برطانوی طویل فاصلے کے دوڑنے والے جِیک اسمتھ کے لیے نائکی کا پیشہ ورانہ معاہدہ اور عالمی سطح پر برطانیہ کی نمائندگی اپنے ساتھ ایک تھکا دینے والا سلسلہ لائی، جس میں دوڑ، بیماری اور چوٹیں ایک کے بعد ایک آتی رہیں۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، صرف 23 سال کی عمر تک سخت ترین ٹریننگ اور کھانے سے متعلق بے قاعدگیوں نے انہیں اس نہج پر پہنچا دیا کہ پانچ فٹ پانچ انچ قد کے ساتھ ان کا وزن صرف آٹھ اسٹون رہ گیا تھا، اور ان کی ہڈیاں اتنی کمزور ہو چکی تھیں کہ ڈاکٹروں نے ان کے کیریئر کے خاتمے کا انتباہ دے دیا۔
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، جِیک اسمتھ کا یہ تجربہ کھیل میں توانائی کی نسبتاً کمی یعنی ریڈز (REDs) نامی سنڈروم کو اجاگر کرتا ہے، جو بروقت تشخیص یا علاج نہ ہونے کی صورت میں کارکردگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ بی بی سی اسپورٹس نے بتایا کہ چار ماہ کے اندر دو بار ہڈیوں میں تناؤ کے فریکچر کا شکار ہونے کے بعد، اسمتھ نے ماہرین سے رجوع کیا تب جاکر ان کی اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔
اگرچہ خواتین میں اس بیماری کی علامات نسبتاً زیادہ واضح طور پر درج ہیں، جیسا کہ ٹینس کھلاڑی ایما ناوارو نے حال ہی میں اپنی تشخیص اور 2027 تک مقابلوں سے دور رہنے کے فیصلے کا انکشاف کیا ہے (جیسا کہ بی بی سی اسپورٹس نے رپورٹ کیا)، لیکن مرد بھی اس بیماری سے اتنے ہی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی اسپورٹس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سماجی دباؤ اور واضح خطرے کی علامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری مردوں میں اکثر پوشیدہ رہتی ہے، جس کی وجہ سے کئی کھلاڑی خاموشی سے تکلیف جھیلتے رہتے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ریڈز (REDs) کے نتیجے میں ہڈیوں میں تناؤ کی چوٹیں، نیند کی خرابی، تھکان اور مزاج کی پستی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری طویل مدت میں دل کی بیماری، ہڈیوں کے بھُر بھُرا پن یعنی آسٹیوپوروسس اور تولیدی مسائل جیسی سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ہارمون کی صحت کی ماہر ڈاکٹر نکی کی، جن کا حوالہ بی بی سی اسپورٹس نے دیا ہے، نے وضاحت کی کہ ان میں سے کئی علامات ناکافی توانائی کے حصول کی وجہ سے ہارمون کے نظام میں خلل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر نکی کی نے بتایا کہ ہارمونز جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے لیے خوراک کی مناسب فراہمی ضروری ہوتی ہے، ورنہ ہارمون کا نظام سست پڑ جاتا ہے یا مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے۔
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، جہاں خواتین میں ماہواری کے نظام کے ذریعے ہارمون کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ریڈز کی حالت میں ماہواری رک جاتی ہے، وہیں مردوں پر اس کا اثر زیادہ خاموش ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مرد کھلاڑیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی گھٹ جاتی ہے اور تھکان غالب رہتی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
کھیلوں کے شوقین افراد اور ایتھلیٹس کے لیے انسانی جسم کی جسمانی حدود کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مناسب توانائی کے توازن کے بغیر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت دونوں اصناف میں طبی خطرات کا باعث بنتی ہے، اور اسپورٹس سائنس میں بیداری اور بروقت طبی امداد کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

