قاہرہ کے ایوانِ اقتدار میں پرانی تاریخ کے سائے ایک بار پھر گہرے ہونے لگے ہیں اور پالیسی ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یمن میں ایک بار پھر کوئی عسکری قدم اٹھایا جائے یا نہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مصری فوج کی ممکنہ تعیناتی کی بازگشت نے ان بھاری جانی نقصان اور تلخ لڑائی کی یادوں کو تازہ کر دیا ہے جو مصر نے 1960ء کی دہائی میں یمن میں برداشت کی تھیں۔
الجزیرہ کے مطابق، یہ بحث خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد شروع ہوئی جب سعودی عرب کو حوثی باغیوں کی طرف سے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں ایک مصری شہری سمیت 13 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ جیسے جیسے یہ جنگ پچھلے چند مہینوں میں شدت اختیار کرتی گئی، سعودی عرب کو مسلسل بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، بالخصوص اکتوبر کے اوائل میں حوثیوں کے خلاف سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے جوابی فضائی حملوں کے بعد سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
ان تمام حالات کے ردعمل میں، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی قومی دفاع کونسل نے 18 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ ملک سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ تاہم، ممکنہ براہ راست فوجی مداخلت پر ہونے والے ردعمل کے بعد، الجزیرہ نے بتایا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی فوجی تعیناتی حوثی باغیوں کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہوگی۔ اس کے علاوہ، الجزیرہ کے مطابق مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعرات کے روز اس تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا، جبکہ قاہرہ نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ اس کا براہ راست اس تنازع میں الجھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، یمن میں مصر کی تاریخی شمولیت 1962ء میں شروع ہوئی تھی جب ہزاروں مصری فوجی شاہی حامیوں کے خلاف خانہ جنگی میں جمہوری قوتوں کی حمایت کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ یہ مداخلت اس وقت کے صدر جمال عبدالناصر کی عرب قوم پرست نظریاتی سوچ کے حامی یمنیوں کی اس بغاوت کے بعد ہوئی تھی جس نے زیدی امام محمد البدر کی مذہبی بادشاہ تخت سے الٹ دی تھی۔ اگرچہ جمہوری قوتیں سعودی حمایت یافتہ شاہی حامیوں کے خلاف بالآخر کامیاب ہو گئیں، لیکن الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مصری فوجیوں کو شدید نقصانات اٹھانے پڑے اور 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ بالآخر وہاں سے نکل گئے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان کے تناظر میں، مشرق وسطیٰ کی علاقائی کشیدگی اور بڑی مسلم اکثریتی ریاستوں کے سفارتی اقدامات خطے کے استحکام اور وہاں مقیم تارکین وطن کی حفاظت کے حوالے سے گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ جب مختلف ممالک اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وعدوں کو نبھاتے ہیں، تو ماضی کی عسکری مداخلتوں کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا موجودہ سفارتی احتیاط کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ نے مستقبل کی تعیناتیوں یا سفارتی اجلاسوں کے حوالے سے کسی خاص ٹائم لائن کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

