مانچسٹر سے اسپین کے لیے اڑنے والی پرواز جب منزل پر پہنچی تو مسافروں کو اندازہ نہیں تھا کہ باہر فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ ان کا منتظر ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یورپ میں سات مسافر طیاروں کی تلاشی لی گئی ہے جو نامعلوم بم دھمکیوں کے بعد عمل میں آئی۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن اور لزبن سے آنے والی ریان ایئر کی دو پروازوں کو روم میں اترنے کے بعد چیک کیا گیا۔ روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طیاروں سے کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور الرٹ ختم کر دیا گیا ہے۔ ڈبلن سے آنے والی پرواز کو اطالوی فضائیہ نے اپنے حصار میں لیا جبکہ پولیس ماہرین نے مسافروں اور سامان کی مکمل تلاشی لی۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حکام نے پولینڈ، اسپین اور بلغاریہ میں بھی طیاروں کی تلاشی لی۔ اسپین کے شہر مورسیا میں اترنے والی پرواز مانچسٹر سے آئی تھی۔ ایک مسافر سارہ نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کو بتایا کہ سفر کے دوران مسافروں کو کچھ معلوم نہیں ہونے دیا گیا۔ سارہ نے بتایا کہ طیارہ اچانک رن وے پر رکا، تقریباً 30 منٹ تک وہیں رہا اور پھر فائر انجنوں نے اسے گھیر لیا جس کے بعد مسافروں کو باہر نکالا گیا
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، نشانہ بننے والی چار پروازوں میں سے دو وارسا شوپن ایئرپورٹ کی طرف جا رہی تھیں۔ اگرچہ باضابطہ طور پر ان واقعات کے درمیان کوئی تعلق سامنے نہیں آیا، لیکن مختلف ممالک کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ یورپی فضائی حدود کو متاثر کرنے کی کوئی مربوط کوشش تھی۔ برطانوی حکومت نے ان واقعات کو شرپسندانہ افواہیں قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دنیا کے بہترین ایوی ایشن سکیورٹی نظاموں میں سے ایک رکھتی ہے۔ ایوی ایشن سکیورٹی کے ماہر پال میسن نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کو بتایا کہ اس طرح کی دھمکیاں اتنی کثرت سے نہیں ملتیں، اس لیے یہ حالیہ واقعات غیر معمولی ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں فضائی سفر اور سکیورٹی پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ واقعات بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ سکیورٹی کتنی حساس ہے۔ اگرچہ تفتیش کے بعد یہ دھمکیاں بے بنیاد ثابت ہوئیں، لیکن اس صورتحال نے یہ ضرور ظاہر کیا کہ نامعلوم کالز ملنے پر بین الاقوامی ادارے کتنی تیزی سے حرکت میں آتے ہیں اور باہمی تعاون کتنا ضروری ہے۔

