گوادر میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز دہشت گردوں نے گوادر میں ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے فورسز نے ناکام بنادیا۔
آپریشنز کا احوال
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے اس حملے کا فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ اس کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر مزید 3 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا۔
دوسری جانب، گوادر ہائی کے قریب واقع ایک ہوٹل میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بھی سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل میں موجود 4 دہشت گردوں کو بھی سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس پورے آپریشن کی قیادت گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) خود کر رہے ہیں۔
پس منظر
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف ستمبر 2026 میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران سب سے زیادہ ماہانہ عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے۔
اہمیت اور پس منظر
اسلام آباد کی جانب سے بارہا کابل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

