گوادر کے علاقے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور مذموم کوشش سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دی گئی۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کے روز گوادر شہر اور گبد بارڈر کراسنگ کے اطراف میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 10 دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے، جن میں ایک خاتون دہشت گرد بھی شامل تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ کارروائیاں شہریوں کے تحفظ اور علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے کی گئیں۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک بے گناہ شہری شہید ہوا جبکہ چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ فورسز کی جوابی کارروائی اتنی شدید اور منظم تھی کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ایک بلوچ خاتون کو اس حملے میں استعمال کرنا نہ صرف ریاستی قوانین بلکہ روایتی بلوچ اقدار اور اسلامی اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جو خواتین کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور کردہ عزم استحکام کے ویژن کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز پوری رفتار سے جاری رہیں گے۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق گوادر کا یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ اس ناکام حملے کے پیچھے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ تھا جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور بلوچستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2026 کے ستمبر کے مہینے میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران سب سے زیادہ دہشت گردانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اس سے قبل چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کور ہیڈ کوٹر کے دورے کے دوران عزم ظاہر کیا تھا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری طاقت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

اس کی اہمیت کیا ہے

عام پاکستانی شہریوں کے لیے یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ملک کو اس وقت کن سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سرحد پار کی دہشت گردی اور بلوچستان میں علاقائی ترقی کو نقصان پہنچانے کی سازشیں شامل ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور ترقیاتی عمل کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔