غیر ملکی زنداں میں چار سالہ کٹھن اسیری کا سفر آخر کار اس وقت تمام ہوا جب روسی حکام نے 74 سالہ امریکی شہری سٹیفن ہبرڈ کو آزادی سے ہمکنار کر دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ہبرڈ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے یوکرین کے لیے بطورِ کرائے کا سپاہی خدمات انجام دیں، تاہم وہ گرفتاری سے لے کر رہائی تک اس الزام کی مسلسل تردید کرتے رہے۔
الجزیرہ کے مطابق، سٹیفن ہبرڈ کی یہ رہائی ایسے وقت میں عمل میں آئی جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف روس کے دورے پر موجود تھے۔ اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ایلچی کے اس دورے کا مقصد ماسکو کو امن مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کی ترغیب دینا تھا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، سٹیفن ہبرڈ 74 سال کے ایک امریکی شہری ہیں جنہیں روس میں چار سال تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں۔ انہیں یوکرین کے لیے جنگ لڑنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، ایک ایسا دعویٰ جس سے وہ پوری قید کے دوران مسلسل انکار کرتے رہے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
بین الاقوامی سفارت کاری اور عالمی سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے حلقوں کے نزدیک، قیدیوں کا اس نوعیت کا تبادلہ یا رہائی اکثر پس پردہ ہونے والے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا نکتہ آغاز ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ واشنگتن اور ماسکو کے دو طرفہ تعلقات سے جڑا ہے، تاہم دنیا بھر میں اعلیٰ سطحی سفارتی دوروں اور عسکری محاذ آرائی کے تناظر میں ان پیش رفتوں کو گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

