یورپی ممالک میں مشکوک ڈرون حملوں، فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور دفاعی شخصیات کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوششوں نے ایک وسیع کشیدگی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یورپی حکام کا الزام ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے پولینڈ، لتھوانیا اور استونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاکہ مقامی دفاعی ردعمل کا جائزہ لیا جا سکے، جبکہ پولینڈ، فن لینڈ اور بالٹک ممالک میں مشکوک ڈرون بھی مار گرائے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق، یوکرین نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے اکتوبر میں بلغاریا کی سمندر کی حدود کے قریب فضائی اور سمندری ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے چار کارگو بحری جہازوں کو ڈبو دیا۔ اس واقعے نے یورپی پانیوں سے گزرنے والے غلہ اور اجناس کے ٹرانسپورٹ کی سیکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، یونان میں لٹویا کی سفیر ایوا سیزنیس نے الجزیرہ کو بتایا کہ بیلاروس کے علاقے سے نقاب پوش افراد نے غیر قانونی تارکین وطن کو لٹویا کی طرف دھکیلا، جبکہ سرحد پر تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور نگرانی کے آلات ہٹانے کے الگ الگ واقعات بھی پیش آئے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین میں جاری تنازع کے بعد سے کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسکو کو میدان جنگ میں درپیش مشکلات اور یورپ کی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ سفیر ایوا سیزنیس کا کہنا ہے کہ جب روس کو یوکرین میں دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو وہ علاقائی لچک کا امتحان لیتا ہے اور یورپی یونین اور نیٹو کے ارکان کے درمیان کییوف کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ الجزیرہ کے توسط سے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اہم تنصیبات کا تحفظ اور انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان اور عالمی برادری کے قارئین کے لیے، یورپی سیکیورٹی صورتحال میں تبدیلیاں عالمی تجارت، سپلائی چین اور بین الاقوامی استحکام کے حوالے سے اہم اثرات رکھتی ہیں۔ اہم سمندری راستوں اور تجارتی گزرگاہوں کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی اجناس کی مارکیٹوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے معاشی اثرات اس خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

