پیرس کے قریب مزدور طبقے کی آبادی والے علاقوں میں محض 15 منٹ کے دوران ہونے والی پرتشدد کارروائی نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ایک شخص کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ جمعہ کی صبح پیش آیا جب ملزم نے ٹریپس اور لا ویریئر کے علاقوں میں پیٹرول پمپ، ایک طبی مرکز اور بچوں کے کھیل کے میدان کو اپنے خودکار ہتھیار سے نشانہ بنایا۔

الجزیرہ کے مطابق، حکام نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت 39 سالہ کیون ٹی کے نام سے کی ہے۔ مقامی رکن پارلیمنٹ لوراں مزوری کا کہنا ہے کہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ "غیر ملکیوں کو قتل" کرنا چاہتا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کو ایک نسلی تعصب کا شکار شخص کا سامنا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں ایک نوجوان سیاہ فام شخص جاں بحق ہوا جبکہ زخمیوں میں ایک خاتون اور حجاب پہنے ہوئے 12 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اس 12 سالہ بچی کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بچی کو 8 گولیاں لگیں اور اسے آپریشن کے لیے بچوں کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ پانچ میں سے تین زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فائرنگ جمعہ کے روز صبح تقریباً 10:30 بجے پیرس کے قریب ایولینز ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی، جو کہ تارکین وطن اور مسلم آبادی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے صحافیوں کو بتایا کہ اس واضح دہشت گردانہ جرم کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم نے کسی دہشت گرد گروہ کے ساتھ مل کر سازش کی تھی۔ ملزم کے خاندان کے ایک فرد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایک مقامی پولیس سربراہ نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ حکام نے ملزم کی گاڑی سے دوسری جنگ عظیم کے دور کا پرانا سیمی آٹومیٹک ہتھیار اور آنسو گیس کے گولے برآمد کیے ہیں۔ ٹریپس کے میئر علی رابی نے بتایا کہ حملہ آور خون خرابے کے لیے اندھا دھند گولیاں چلا رہا تھا اور انہوں نے اس واقعے کو نسلی اور بظاہر اسلام دشمنی پر مبنی حملہ قرار دیا۔ وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے ایکس پر لکھا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور تمام سکیورٹی اور عدالتی وسائل کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ یہ فائرنگ ایسے وقت میں ہوئی جب فرانس میں مہنگائی اور طلبہ کے پرتشدد احتجاج کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس واقعے کی اہمیت کیوں ہے؟

عالمی حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، بڑے یورپی ممالک میں ٹارگٹڈ تشدد اور بڑھتی ہوئی نسلی کشیدگی کے ایسے واقعات سکیورٹی، ہجرت اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے جاری مباحثوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ الجزیرہ کی جانب سے جن مانیٹرنگ گروپس کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مطابق یورپ میں زیادہ مسلمانوں کو نسلی امتیاز کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے گھریلو معاشی اور سماجی دباؤ کے ادوار میں اقلیتی برادریوں کی حفاظت کے حوالے سے ایسے واقعات بین الاقوامی تشویش کا نکتہ بن جاتے ہیں۔