مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی سپلائی لائنز پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر چار اہم ممالک نے فوری طور پر بات چیت کی طرف واپسی اور تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کا مطالبہ کیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں ملاقات کی تاکہ امن، استحکام اور اہم سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے ایک متفقہ آواز بلند کی جا سکے۔
ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ، جنہیں اجتماعی طور پر آر فور کہا جاتا ہے، نے اپنے اس اجلاس کے دوران اسلام آباد میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ کی توثیق کی۔ جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کو سختی کے ساتھ سفارتی ذرائع سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
مشترکہ بیان میں حوثی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سعودی شہریوں، تنصیبات اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اس کے علاوہ، وزراء نے ایسے کسی بھی اقدام یا پابندی کو مسترد کر دیا جو قانونی جہاز رانی کو متاثر کرے، اور آبرائے ہرمز میں محفوظ راستے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، استنبول میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس میں علاقائی کشیدگی کے وسیع تر اثرات پر گہری توجہ مرکوز کی گئی۔ مشترکہ بیان میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چینز کے ساتھ ساتھ توانائی، کھاد اور خوراک کی رسد کو متاثر کر کے بین الاقوامی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
ان چاروں ممالک نے اسرائیلی قبضے کو عدم استحکام کی بنیادی جڑ قرار دیا جس نے عالمی سطح پر ناانصافی کا گہرا احساس پیدا کیا ہے۔ نتیجتاً، وزراء نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جاری تشدد، تباہی اور یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خاتمے پر بھی زور دیا۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان اور پورے خطے کے عام قارئین کے لیے، اہم سمندری گزرگاہوں اور عالمی سپلائی چینز میں رکاوٹیں توانائی، خوراک اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی نقل و حرکت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ وزراء کا یہ مشترکہ موقف علاقائی تنازع کے معاشی اثرات سے کمزور آبادیوں کو بچانے کے لیے اجتماعی بین الاقوامی کوششوں پر زور دیتا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق، آر فور ممالک نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ ان کے مشترکہ سفارتی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق ہیں تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے اور ایک مستقل مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔

