عالمی راہداریوں کی بندش اور جنگ کے سائے جب گہرے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات محلات کی چار دیواری سے نکل کر عام انسانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دوحہ میں ملاقات کی ہے جس میں ابنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی آزادی اور غزہ میں جنگ بندی کا مشترکہ مطالبہ کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس مشترکہ بیان میں ابنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فیس کے بغیر بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کے ممالک پر ایرانی فوجی حملوں کی بھی مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب قطری ثالث ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے بتایا کہ کشیدگی کم کرنے اور آبی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
انسانی ہمدردی کے محاذ پر دونوں رہنماؤں نے غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور وہاں بغیر کسی شرط کے فوری اور محفوظ طریقے سے امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا ہے کہ غزہ میں تقریبا 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور قطر نے مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت کرتے ہوئے بستیوں کی پالیسیوں اور آباد کاروں کے تشدد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
لبنان کے حوالے سے دونوں ممالک نے لبنانی خودمختاری کی بحالی، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور مکمل اسرائیلی انخلا کے لیے سہ فریقی فریم ورک معاہدے کے مکمل نفاذ کی حمایت کی، اور اقوام متحدہ کے امن مشن کی مدت ختم ہونے کے بعد سیکیورٹی خلا پیدا ہونے سے خبردار کیا۔ شام کے بارے میں دونوں ملکوں نے استحکام اور معاشی بحالی کے منصوبوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ایمانوئل میکرون کی یہ ملاقات فرانسیسی صدر کے اس دورے کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنا، علاقائی استحکام کی حمایت کرنا اور نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے علاوہ قطری ثالث ابراہیم بن سلطان الہاشمی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ابنائے ہرمز کے تناؤ کو حل کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان کے قارئین کے لیے اہم عالمی تجارتی راہداریوں اور مشرق وسطیٰ کے استحکام میں ہونے والی پیش رفت گہرے معاشی اور سفارتی اثرات رکھتی ہے۔ ابنائے ہرمز جیسے تجارتی راستوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عالمی توانائی کی مارکیٹوں، ایندھن کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ اور لبنان میں جاری انسانی بحران اور سفارتی کوششیں عالمی امن پر نظر رکھنے والے حلقوں کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

