پنجاب کے آسمان پر ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں کا راج ہونے والا ہے کیونکہ صوبائی حکومت نے مارچ 2027 میں پورے صوبے میں بسنت کے روایتی تہوار کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق انتظامیہ نے اس حوالے سے ایک جامع پلان تیار کیا ہے جس کے تحت پتنگ سازی کو ضابطے میں لایا جائے گا، ڈور اور پتنگوں کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں گی اور نئی قانون سازی کے ذریعے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔

اہم تفصیلات

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انتظامی پلان میں پنجاب بھر میں مخصوص مقامات پر پتنگ سازی کی اجازت دینا شامل ہے۔ صوبائی حکومت کا ارادہ ہے کہ آنے والی قانون سازی میں پتنگ بازی کے لیے مخصوص اصول اور حفاظتی تدابیر شامل کی جائیں، جن کی تفصیلات اور مقررہ جگہیں جلد سامنے لائی جائیں گی۔

جیو نیوز نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس سے قبل لاہور میں 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک 10 روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دی تھی۔ ایک سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ جشن 5 فروری کو یومِ کشمیر کے موقع پر ایک دن کے لیے معطل رہے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تہوار پنجاب کی تاریخی ثقافتی روایات کو فروغ دیتا ہے اور انہوں نے حکام کو سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے جیو نیوز کو بتایا کہ رواں سال اس تہوار کی کامیاب واپسی لاہور اور پاکستان کی فتح تھی، اور انہوں نے مستقبل میں مزید شاندار تقریبات کا وعدہ کیا۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق لاہور نے طویل پابندی کے خاتمے کے بعد رواں سال فروری میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اپنی پہلی بسنت منائی تھی۔ تین روزہ اس ایونٹ کا انعقاد سخت ضابطوں کے تحت کیا گیا تھا، جس میں روشنیاں، چھتوں پر رات گئے اجتماعات اور عوام کی سہولت کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سروس بھی فراہم کی گئی تھی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

پاکستان کے عام شہریوں اور ثقافتی شوقین افراد کے لیے، بسنت کی واپسی اور اس کا دائرہ کار بڑھنا تاریخی روایات کے احیاء کی علامت ہے جو کمیونٹیز کو روشنیوں اور عوامی تقریبات کے ذریعے قریب لاتی ہیں، جبکہ حکام ان تقریبات کو محفوظ بنانے کے لیے ضابطوں پر عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں۔